ممبئی حملوں کی فرد جرم داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ برس ہوئے ممبئی حملوں کی تفتیشی ایجنسی ممبئی کرائم برانچ نے بدھ کی شام ممبئی عدالت میں اجمل امیر قصاب سمیت سینتالیس ملزمین کے خلاف فرد جرم داخل کر دی ہے۔ان سینتالیس ملزمین میں سے پینتیس پاکستانی مفرور ملزمین بتائے گئے ہیں۔ گیارہ ہزار دو سی اسی صفحات کی ضخیم فرد جرم میں پولیس نے اجمل امیر قصاب کے علاوہ اس کے ساتھ ممبئی حملوں میں ہلاک ہوئے ان کے نو ساتھی ، مبینہ لشکر طیبہ کے ذکی الرحمن لکھوی ، ضرار شاہ ، یوسف مزمل ، ابوقحافہ ، ابوحمزہ اور ابو سلمان کے نام شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر ناموں میں پولیس نے دو فوجیوں کے نام بھی شامل کیے ہیں جن کے بارے میں جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا کا کہنا تھا کہ ان کے ناموں کے سامنے ان کے عہدے لکھے ہوئے ہیں لیکن وہ کتنے سچ ہیں اس کی تفتیش جاری ہے۔ سرکاری وکیل اجول نکم نے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ایم جے مرزا کے سامنے یہ چارج شیٹ پیش کی۔فرد جرم میں ملزمین کے خلاف ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، تعزیرات ہند کی دفعات اور حملوں کی سازش کے علاوہ فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے، غیر ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے اسلحہ قانون ، دھماکہ خیز اشیاء قوانین ، کسٹم قانون ریلوے قوانین کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا جو ممبئی حملوں کی تفتیش کے سربراہ ہیں، پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے دعوی کیا کہ فرد جرم مین جن پینتیس پاکستانیوں کے نام شامل کیے گیے ہیں ، پولیس کے پاس ان کے خلاف پختہ ثبوت ہیں۔ان میں سے بیشتر نے ممبئی میں حملہ کرنے آنے والے ملزمین کو پاکستان میں تربیت دی تھی۔ ماریا کا دعوی ہے کہ یہ تربیت پاکستان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دی گئی تھی۔انہیں لشکر طیبہ کے مرین کمانڈوز نے اپنے یہاں تربیت دی۔ ماریا کا دعوی ہے کہ ممبئی پولیس کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو ہزار دو سو گواہان کے نام اس فرد جرم میں شامل ہیں ان میں عینی شاہدین اور ماہرین کے علاوہ فوٹوگرافرز اور صحافی بھی شامل ہیں۔ اس کیس کے ہندستانی ملزمین فہیم اور صباح الدین کے وکیل عباس نقوی عدالت میں اپنے موکلین کی پیروی کے لیے موجود تھے لیکن ابھی تک اجمل قصاب کے لیے کسی وکیل کا انتظام نہیں ہو سکا ہے۔ پولیس کے پاس ممبئی سے وکیل کے این لام اور دہلے سے دو وکلاء کی عرضی التوا میں ہے لیکن اجمل نے پاکستان سے اپنے لیے وکیل کرنے کی تحریری اپیل کی تھی جس کا ابھی تک جواب نہیں موصول ہوا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے نوے دن مکمل ہونے سے قبل ہی فرد جرم داخل کر دی ہے۔پولیس کے مطابق اب سیشن کورٹ میں اس کیس کی سماعت جلد ہی شروع ہوگی۔ ممبئی کے سینٹرل جیل میں ممبئی حملوں کے کیس کی سماعت خصوصی جج ایم ایل تہیلیانی کے سامنے ہو گی۔ سرکاری وکیل اجول نکم ہوں گے۔اسی عدالت میں اس سے قبل سن ترانوے بم دھماکے کے کیس کی سماعت ہو چکی ہے۔ اجمل اور ان کے ساتھ فہیم اور صباح الدین کو جیل میں رکھنے کے لیے خصوصی کمرہ تیار کیا جا رہا ہے۔انہیں جیل میں تمام قیدیوں سے علیحدہ رکھا جائے گا۔ | اسی بارے میں بھارت میں دہشت گردی، داخلی چیلنجز کا سامنا22 February, 2009 | انڈیا قصاب کا ریمانڈ 26 فروری تک13 February, 2009 | انڈیا لاشیں پاکستان کو دینے کی خواہش 19 February, 2009 | انڈیا ’اجمل کو پاکستان کےسپرد کریں‘17 February, 2009 | انڈیا ’پاکستان کے رد عمل میں تضاد ہے‘08 January, 2009 | انڈیا ممبئی میں انٹرپول کی تفتیش22 December, 2008 | انڈیا قصاب کا خط پاکستان کے حوالے22 December, 2008 | انڈیا انڈین مجاہدین، فرد جرم داخل 17 February, 2009 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||