BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2009, 08:42 GMT 13:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قصاب کا ریمانڈ 26 فروری تک

 اجمل قصاب
اجمل قصاب کے پاس اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے کوئی وکیل نہیں ہے
گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہوئے حملوں کے واحد زندہ بچے ملزم اجمل امیر قصاب کو ممبئی کی ایک عدالت نے چھبیس فروری تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

اس مرتبہ اجمل کے خلاف ولے پارلے میں ایک ٹیکسی میں ہوئے بم دھماکے کا کیس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

اجمل جنہیں ان کی حفاظت کے پیش نظر عدالت میں نہیں لایا جاتا ہے، ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسریٹ شری منگلے، سرکاری وکیل ایکناتھ دھمال کے ہمراہ خود کرائم بانچ لاک اپ آتے ہیں جہاں اجمل کو قید میں رکھا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق جو دس حملہ آور آئے تھے انہوں نے دو ٹیکسیاں کرایہ پر لی تھیں جن میں انہوں نے بم نصب کر دیے تھے۔ان میں سے ایک ٹیکسی ولے پارلے چلی گئی تھی جہاں وہ بم پھٹ گیا تھا۔

ملزم اجمل کے خلاف ممبئی پولیس نے بارہ مختلف پولیس سٹیشنوں میں کیس درج کیے ہیں۔اجمل کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے جیسے سنگین الزامات کے تحت کیس درج ہیں۔

اجمل اور بقیہ نو حملہ آوروں کے خلاف پولیس فرد جرم تیار کرنے میں مصروف ہے۔ ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ نوے دن مکمل ہونے سے قبل فرد جرم عدالت میں داخل کر دے گی۔

ممبئی ہائی کورٹ کے چیف رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں اجمل کے کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا نے عدالت میں تحریری اپیل کی تھی کہ اجمل کے کیس کی سماعت بند عدالت میں کی جائے کیونکہ اجمل کی جان کو خطرہ لاحق ہے اس لیے انہیں کھلی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ممبئی کی سینٹرل آرتھر روڈ جیل میں خصوصی عدالت قائم کی جائے گی جہاں سن ترانوے بم دھماکوں کے ملزمین کے مقدمات کی سماعت ہوئی تھی اور انہیں رتھر روڈ جیل میں ہی خصوصی سیل میں رکھا گیا تھا۔

اسی عدالت میں اس وقت مافیا سرغنہ ابوسالم کے کیس کی سماعت جاری ہے۔اجمل کے کیس کی شروعات سے قبل ابوسالم کا کیس سیشن کورٹ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ابھی تک کوئی وکیل نامزد نہیں ہوا ہے۔اجمل نے پاکستانی ہائی کمیشن سے اپنے لیے وکیل مقرر کرنے کی تحریری درخواست کی تھی لیکن ابھی تک پاکستانی ہائی کمیشن نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

اب جبکہ پاکستان نے یہ اعتراف کر لیا ہے اجمل پاکستانی ہے شاید وہ اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے کوئی وکیل نامزد کریں۔

ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
اسی بارے میں
’اجمل میرا ہی بیٹا ہے‘
12 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد