اجمل کے ریمانڈ میں مزید توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل امیر قصاب کو عدالت نے دو فروری تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ قصاب پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، قتل اور قتل کی کوششوں جیسے الزام عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں جنوبی ممبئی کے آزاد میدان پولیس تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت کے لیے ایک خصوصی جج تعینات کیا گیا تھا۔ حراست میں پولیس ابھی بھی قصاب سے تفتیش کررہی ہے۔ اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ابھی تک کوئی بھی وکیل نامزد نہیں ہوا ہے لیکن ایسی صورتحال میں انہیں سرکاری وکیل کی سہولت مل سکتی ہے۔ اجمل قصاب کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی وکیل نہیں۔ پاکستان حکومت کو ایک خط میں قصاب نے قانونی مدد کی اپیل کی تھی۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ اس پاکستان کو ممبئی حملوں میں پاکستانی شدت پسندوں کے شامل ہونے کے شواہد سونپ دیئے ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے ان شواہد کے مطابق وہ تفتیش کررہا ہے۔ پولیس کیس کے مطابق اجمل اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل خان رنگ بھون کے پاس اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے ، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے، انکاؤنٹر کے ماہر پولیس انسپکٹر وجے سالسکر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی سکوڈا کار میں فرار ہو گئے تھے جنہیں بعد میں ڈی بی مارگ گرگام چوپاٹی کے پاس سے پکڑا گیا تھا۔ پولیس کارروائی کے بعد اسماعیل خان کی موت واقع ہو گئی تھی اور پولیس نے اجمل کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ ممبئی حملوں کے کافی دن بعد تک پاکستان کی حکومت قصاب کو اپنا شہری ماننے کے لیے تیار نہیں تھی لیکن اب پاکستان نے قبول کرلیا ہے کہ قصاب پاکستانی شہری ہے۔ حالانکہ پاکستانی حکام نے ابھی تک قصاب سے ملنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ممبئی میں چھبیس نومبر کو شدت پسند حملے ہوئے تھے جن میں کم سے کم ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے جن میں پندرہ سے زیادہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں جناردھن اجمل کی پیروی کے لیے تیار15 December, 2008 | انڈیا ’اجمل کا پاکستانی ہائی کمیشن کو خط‘14 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’اجمل میرا ہی بیٹا ہے‘12 December, 2008 | پاکستان فرید کوٹ میں غیر معمولی کیا؟05 December, 2008 | پاکستان ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||