BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 February, 2009, 14:25 GMT 19:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اجمل کو پاکستان کےسپرد کریں‘
شاہ محمود قریشی
پاکستان کہہ چکا ہے کہ حملوں کی کچھ سازش پاکستان میں بھی ہوئی تھی
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں گرفتار اجمل امیر قصاب اگر پاکستانی شہری ہیں اور انہوں نے جرم کیا ہے تو بھارت کو چاہیے کہ اسے پاکستان کے سپرد کر دیا جانا چاہیے۔

گزشتہ برس نومبر میں ممبئی پر ہوئے حملوں میں تقریباً ایک سو ستر لوگ ہلاک ہوئے تھے اور تین سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات چیت میں محمود قریشی نے کہا کہ ’بھارت کو قصاب کے معاملے میں اڑنا نہیں چاہیے۔ اگر وہ پاکستانی شہری ہے اور انہوں نے جرم کیا ہے تو ان پر پاکستان میں مقدمہ چلنا چاہیے، اس لیے بھارت کو قصاب کو پاکستان کو سونپنا چاہیے تاکہ قانون ان کے خلاف ق‍انون کے تحت کارروائی کر سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو تفتیش ہوئی ہے’ ہم نے ایمانداری سے اس کی رپورٹ بھارت کو سونپی ہے اور بتایا ہے کہ اس میں کون افراد ملوث ہیں۔ ان کے خلاف معاملے درج ہوئے ہیں اور مقدمہ چلایا جائےگا۔ ہم نے یہ بھی بتایا ہے کہ ان لوگوں کے تعلقات کس سے ہیں۔‘

محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو کچھ سوال بھیجے ہیں اور جب جواب آئےگا تو جانچ آکے بڑھےگی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی انفارمیشن اس لیے ضروری ہے کیونکہ جانکاری کو ثبوت کی شکل میں عدالت میں پیش کیا جانا ہے تاکہ مقدمہ مضبوطی سے لڑا جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ہر جگہ ہے۔ چاہے وہ پاکستان یا افغانستان اور بھارت میں بھی۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ بھارت میں بھی بہت سے واقعات ہوئے ہیں۔ ممبئی حملوں میں بھارت کے مقامی لوگ ملوث ہیں، جنہوں نے حملہ آوروں کی مدد کی اور انہوں نے اکسایا ان کے نام اور ان کی شناخت کو بھارت کو چاہیے کہ عام کرے۔ بھارت میں بھی کئی جگہ باغی سرگرم ہیں اور اسے چاہیے کہ علاقے کی سلامتی کے لیے مل کر کام کرے۔‘

ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں جانب سے بیان بازی ہوتی رہتی ہے۔

اسی بارے میں
’بس اب بہت ہو گیا‘
24 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد