BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2009, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈوسئیر، پاکستان نےسوالات کیےہیں‘

بھارت نے گزشتہ دنوں پاکستان کو پچپن صفوں پر مشتمل ایک ڈوسیئر دیا
ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن نے کہا ہے کہ ہندوستان نے ممبئی حملوں سے متعلق جو ڈوسیئر پاکستان کو بھیجا تھا اس کے بارے میں حکومتِ پاکستان نے بعض سوالات کیے ہیں۔

ایم کے نارائنن کا کہنا ہے کہ ڈوسیئر سے متعلق پاکستان نے دو مرحلوں میں ہندوستان سے بعض سوالات کیے ہیں۔ پہلے مرحلے کے سوالات کے جواب پاکستان کو دیے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی تفتیش پاکستان ایسے کر رہا ہے جیسے کہ ایک تفتیشی ایجنسی کو کرنی چاہیے۔ ایم کے نارائنن نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل پر کرن تھاپر کو دیے گئے ایک انٹریو میں کہی ہے۔

ایم کے نارائنن برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے اس بیان پر اپنی رائے دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش کے لیے پاکستان کی سرزمین کا استمعال نہیں ہوا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ پاکستان نے شواہد سے متعلق دوبارہ جو سوال بھیجے تھے ان کا جواب انہیں ابھی ملنا باقی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کیا باتیں کر رہے ہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ اسی مفلوج (ڈِسفنکشنل) طریقہ کار کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان میں بیشتر چیزیں ہو رہی ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ شواہد پر پاکستان کے ردعمل سے مطمئن ہیں تو انکا کہنا تھا: ’مجھے نہیں معلوم مطمئن سے کیا مراد ہے لیکن ایک بات ہے کہ پاکستان اس کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور وہ معاملے کی اس طرح تفتیش کر رہا ہے جیسے کہ ایک ایجنسی کو کرنی چاہیے۔‘

کارکردگی
 ’میرا خیال ہے کہ پاکستان نے شواہد سے متعلق جو دوبارہ سوال بھیجے تھے ان کا جواب انہیں ابھی ملنا باقی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر کیا باتیں کر رہے ہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ اسی معذور طریقہ کار کا حصہ جس کے تحت پاکستان میں بیشتر چیزیں ہورہی ہیں۔
ایم کے نارائنن
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ رویہ ہندوستان کے نظریہ سے ٹھیک ہے لیکن تفتیش کے بعد جو سچ سامنے آئے گا اس کو وہ قبول کرے گا یا نہیں یہ مجھے نہیں پتہ۔

انٹرویو کے دوران جب ایم کے نارائنن سے یہ پوچھا گیا کہ حملوں کے بعد پاکستان نے مبینہ شدت پسند تنظیم جماعت الدعوۃ کے خلاف جو قدم اٹھائے ہیں اس سے وہ مطمئن ہیں تو ان کاکہنا تھا کہ وہ پاکستانی حکومت کی جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی سے بالکل متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت نے بعض گرفتارشدہ افراد کو، جن میں ذکی الرحمن لکھوی، ضرار شاہ اور حافظ محمد سعید شامل ہیں، مہمان کی طرح رکھا ہوا ہے۔

ممبئی حملوں کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو 55 صفحات پر مشتمل ایک ڈوسیئر یا ثبوتوں کی تفصیلات پیش کی تھیں۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ان شواہد میں اس بات کے ثبوت دیے گئے ہیں کہ ممبئی حملوں کی سازش اور اس کو انجام دینے کے لیے پاکستان میں مقیم بعض شدت پسند عناصر ذمہ دار ہیں۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےکہا تھا کہ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے ممبئی دھماکوں کے بارے میں اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہے اور اب وزرات قانون اس کا جائزہ لے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ وزرات قانون کی رائے کے بعد اس رپورٹ کو وزارت خارجہ کو بھجوایا جائے گا اور پھر سفارتی چینل کے ذریعے بھارت کو تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں بتایا جائے گا۔

 ممبئی ڈوسیئرممبئی ڈوسیئر
’ڈوسیئر ثبوتوں کا دعوی ہے ثبوت نہیں‘
فائل فوٹوممبئی ڈوسیئر
پاکستان کو دیئے گئے شواہد کیا ہیں؟
پاکستانی فنکار کاشف خانہند پاک کشیدگی
ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں: مہیش بھٹ
نفسیاتی دباؤ
ممبئی والےگھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں
ہر کوئی ہوٹل تاج کی تصویر کو اپنے البم کی زینت بنانا چاہتا ہےہوٹل تاج کا رخ
ان دنوں سیاح ہوٹل تاج کا رخ کرتے ہیں
ممبئی پر حملےممبئی میں ’جنگ‘
ممبئی میں دہشت کا راج: خصوصی ضمیمہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد