لاشیں پاکستان کو دینے کی خواہش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی ریاستی حکومت نے چھبیس نومبر کو ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے نو شدت پسندوں کی لاشوں کو حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے بھارت کی مرکزی حکومت سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ جینت پاٹل نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ حکومت پاکستان کے اس اعتراف کے بعد کہ اجمل امیر قصاب اس کا شہری ہے، پاکستان کو ان نو شدت پسندوں کی لاشوں کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ حکومت پاکستان نے ممبئی حملوں کے فورا بعد بھارت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ اجمل پاکستان کا شہری ہے تاہم تفتیش کے بعد یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی۔ کرائم برانچ نے دعوٰی کیا تھا کہ پولیس حراست میں اجمل نے پولیس کو دیے گئے اپنے مبینہ حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ حملوں کے دوران کمانڈوز، فوجی آپریشن اور پولیس آپریشن میں مارے گئے سارے شدت پسند اس کے ساتھی تھے۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے سربراہ جوائنٹ پولیس کمشنر راکیش ماریا بھی ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر حکومت پاکستان مطالبہ کرے تو وہ ان نو شدت پسندوں کی لاشوں کو ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ سوال اس وقت سامنے آیا تھا جب ممبئی کی مسلم تنظیموں نے ان نو شدت پسندوں کی لاشوں کو اپنے قبرستان میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اسلام بےگناہوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا اس لیے اس طرح کا بہیمانہ فعل کرنے والوں کے لیے ان کے پاس زمین نہیں ہے۔
ممبئی حملوں کے نو شدت پسندوں کی لاشیں اس وقت ممبئی کے سرکاری جے جے ہسپتال کے مردہ گھر میں رکھی ہیں۔ ان لاشوں کو دوسری لاشوں سے علیحدہ ایک کمرے میں رکھا گیا ہے۔ ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ لاشوں کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہ پہنچے کیونکہ یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ کے ثبوت ہیں اس لیے ڈاکٹر بھی اکثر و بیشتر یہ دیکھتے ہیں کہ کمرے کا درجہ حرارت صحیح ہے یا نہیں۔ سرکاری ہسپتال کے ضابطہ کے مطابق عام طور پر لاشوں کو چار ہفتوں سے زیادہ نہیں رکھا جاتا ہے لیکن چونکہ یہ بین الاقوامی معاملہ ہے اس لیے انہیں اس وقت تک رکھا جانا طے ہے جب تک اس سلسلہ میں دونوں ممالک کے درمیان سارے معاملات طے نہیں ہو جاتے۔ وہ مردہ گھر جہاں ان کی لاشیں رکھی ہیں، چوبیس گھنٹہ پولیس کی نگرانی میں ہیں۔ پولیس کا ایک پورا دستہ ان کی نگرانی پر مامور ہے اور وہاں کسی اور کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جے جے مارگ پولیس سٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر ابو بیگ نے، جن کے ذمہ اس مردہ گھر کی نگرانی ہے، بتایا کہ ان کی حفاظت کے لیے ان کے پولیس سٹیشن کا مخصوص دستہ وہاں تعنیات ہے۔ خیال رہے کہ بھارتی پولیس کا دعوٰی ہے کہ گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر شدت پسند حملوں کے ذمہ دار دس حملہ آور پاکستان کے شہر کراچی سے ممبئی پہنچے تھے اور انہوں نے ممبئی ریلوے سٹیشن ، کیفے لیوپولڈ، ہوٹل تاج اور اوبرائے کے علاوہ ناریمان ہاؤس پر حملہ کیا تھا۔ پولیس کمانڈوز اور فوجی آپریشن کے دوران ان دس میں سے نو شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ محمد اجمل امیر قصاب کو پولیس نے زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ | اسی بارے میں ’اجمل کو پاکستان کےسپرد کریں‘17 February, 2009 | انڈیا پاکستان معاملے کو نہ الجھائے:انڈیا10 February, 2009 | انڈیا ’ڈوسئیر، پاکستان نےسوالات کیےہیں‘01 February, 2009 | انڈیا ’ڈوسیئر ثبوتوں کا دعوی ہے ثبوت نہیں‘12 January, 2009 | انڈیا ’ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں‘30 December, 2008 | انڈیا سیاح ہوٹل تاج کا رخ کرتے ہیں26 December, 2008 | انڈیا ثبوت نا کافی ہیں: قائمہ کمیٹی26 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||