ممبئی حملوں کی چارج شیٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں پر ممبئی پولیس بدھ کے روز (آج) عدالت میں فرد جرم عائد کر رہی ہے۔ اس فردِ جرم میں پولیس نے حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے ملزم اجمل امیر قصاب کے علاوہ لشکر طیبہ کے کئی اراکین کے نام بھی شامل کیے ہیں۔پولیس نے اجمل اور لشکر کے مبینہ اراکین کے خلاف ملک کےخلاف اعلانِ جنگ، قتل، اقدام قتل، اسلحہ، دھماکہ خیز اشیاء رکھنے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔ ممبئی کرائم برانچ چیف راکیش ماریا کے مطابق پولیس میٹرو پولیٹن کورٹ میں بدھ کی صبح فرد جرم داخل کرے گی۔فوجداری قوانین کے تحت ملزم کی گرفتار کے نوے دن کے اندر پولیس کو عدالت میں کیس کی چارج شیٹ داخل کرنا ہوتی ہے۔ پولیس تین ماہ کی مدت ختم ہونے سے ایک دن قبل یہ چارج شیٹ داخل کرنے والی ہے اور چھبیس فروری کو اجمل کی پولیس حراست کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ پولیس نے پانچ ہزار سے زائد صفحات کی چارج شیٹ تیار کی ہے جس میں پولیس نے اپنی جانب سے فورینسک جانچ رپورٹ اور ڈی این اے رپورٹ بھی شامل کی ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد پولیس نے جائے واردات سے اے کے 47 رائفلز ، نائن ایم ایم پستول، گولیاں، کارتوس، دستی بم اکٹھا کیے تھے جن کی فورینسک رپورٹ فرد جرم میں عدالت کے سامنے بطور ثبوت پیش ہو گی۔ پولیس نے جو ڈیٹونیٹر ضبط کیا تھا اسے بھی بطور ثبوت پیش کیا ہے۔اسکے علاوہ پولیس وہ نائن ایم ایم پستول بھی پیش کرے گی جو پولیس کے مطابق پاکستان کی ڈائمنڈ نیڈی فرنٹیر آرمز کمپنی میں بنائے گئے تھے اس کے علاوہ دستی بموں کو بھی پیش کیا جائے گا ، پولیس کے مطابق ان پر ’آرجیس‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ آسٹریا کی کمپنی ہے جس کی فرینچائز پاکستان میں ہے۔
پولیس کے مطابق پاکستان سے آنے والے حملہ آور اپنے ساتھ آر ڈی ایکس سے بنے دس بم لائے تھے جن میں سے دو بم ٹیکسیوں میں پھٹے تھے اور بقیہ اوبیرائے ہوٹل، تاج ہوٹل، ایک ناریمان ہاؤس اور ایک بعد میں سی ایس ٹی سے ملا تھا۔ پولیس نے ان کی بھی فورینسک جانچ رپورٹ کو بطور ثبوت پیش کیا ہے۔ پولیس نے کوبیر ماہی گیر بوٹ میں سے وہ تمام اشیاء حاصل کی تھیں جسے حملہ آور اپنے ساتھ پاکستان سے لے کر آئے تھے۔ان میں ٹوتھ برش، جیکٹ، کمبل اور کھانے کے پیکٹ شامل تھے۔ پولیس نے اس کے بعد قصاب کے ساتھ ہی حملہ میں مارے گئے ان نو شدت پسندوں کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ کیا تھا۔پولیس نے سولہ نمونے حاصل کیے تھے۔یہ رپورٹ بھی فرد جرم میں شامل ہے۔ پولیس نے اپنے قبضہ میں اس کشتی کو بھی لیا ہے جس کا موٹر انجن مبینہ طور پر پاکستان نے درآمد کیا تھا۔ پولیس نے اپنے ثبوت میں چھتر پتی شیواجی ٹرمنس، تاج ہوٹل، اوبیرائے ہوٹل، کیفے لیوپولڈ ، ناریمان ہاؤس اور دیگر مقامات پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کے فٹیج بھی شامل کیے ہیں۔ پولیس نے ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کے اعضاء کا ٹیسٹ کیا تھا جس سے پتہ چلا ہے کہ حملہ آوروں نے منشیات کا استعمال نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے خشک میوہ جات کھائے تھے۔ ان سب کے علاوہ پولیس کے پاس لشکر طیبہ کے اراکین اور ممبئی کے حملہ آوروں کے درمیان ہوئی مبینہ گفتگو کا ٹیپ بھی موجود ہے جسے وہ فرد جرم میں بطور ثبوت پیش کرے گی۔ حال ہی میں ممبئی کرائم برانچ کی ایک تین رکنی ٹیم نے امریکہ کا دورہ کیا تھا اور امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن سے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول کے علاوہ دیگر ثبوت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ خیال ہے وہ بھی مبمئی پولیس کے ثبوت کا حصہ بنیں گے۔ فرد جرم میں سو سے زائد گواہان کی فہرست پیش کی گئی ہے۔جس میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ چند فوٹوگرافرز اور صحافی بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں بھارت میں دہشت گردی، داخلی چیلنجز کا سامنا22 February, 2009 | انڈیا قصاب کا ریمانڈ 26 فروری تک13 February, 2009 | انڈیا لاشیں پاکستان کو دینے کی خواہش 19 February, 2009 | انڈیا ’اجمل کو پاکستان کےسپرد کریں‘17 February, 2009 | انڈیا ’پاکستان کے رد عمل میں تضاد ہے‘08 January, 2009 | انڈیا ممبئی میں انٹرپول کی تفتیش22 December, 2008 | انڈیا قصاب کا خط پاکستان کے حوالے22 December, 2008 | انڈیا انڈین مجاہدین، فرد جرم داخل 17 February, 2009 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||