صومالی قزاقوں پر بھارتی بحریہ کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی بحریہ نےصومالیہ کے ساحل کے نزدیک ایک ہندوستانی مال بردار جہاز پر قزاقوں کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ کارنامہ بھارتی بحریہ کے کمانڈوز نے انجام دیا ہے۔ ہندوستان کی بحریہ نے خلیج عدن میں ہندوستانی جہازوں کے تحفظ کے لیے حال ہی میں اپنا ایک جنگی جہاز بھیجا ہے جو اس خطے میں گشت کر رہا ہے۔ یہ واقعہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب ہندوستانی مال بردار جہاز ایم وی جگ ارنو سویز نہر عبور کرنے کے بعد ہندوستان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وزارت دفاع کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق جس وقت یہ جہاز عدن سے مشرق کی طرف ساٹھ میل کے فاصلے پر تھا اس پر قبضہ کرنے کے لیے خود کار ہتھیاروں سے مسلح قزاقوں نے حملہ کر دیا۔ مال بردار جہاز کی طرف سے مدد کی اپیل موصول ہوتے ہی ہندوستانی جنگی جہاز سے ایک بندوق بردار ہیلی کاپٹر بحری کمانڈوز کے ساتھ موقع پر بھیجا۔ بحری کمانڈوز نے وقت پر پہنچ کر جہاز کو اغوا کرنے کی قزاقوں کی کوشش ناکام بنا دی۔
صومالیہ کے نزدیک خلیج عدن میں مال بردار جہازوں پر حملے لوٹ مار اور اغوا کی کئی وارداتوں کے بعد ہندوستانی جہازوں کے تحفظ کے لیے ہندوستانی بحریہ نے 23 ستمبر سے خطے میں گشت کرنا شروع کیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق بحریہ کے اس گشت کا مقصد’ہندوستانی مال بردار جہازوں کو قزاقوں کے حملے سے بچانا اور اس راستے سے بڑی تعداد میں گزرنے والے ہندوستانی جہازرانوں میں تحفظ اوراعتماد کا احساس پیدہ کرنا ہے۔‘ اس واقعہ کے بعد ہندوستانی بحریہ کے سربراہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بحریہ کے جہاز جو قزاقی والے خطوں میں گشت کر رہے ہیں وہ ہمیشہ انتہائی چوکس رہتے ہیں اور اپنے بحری جہازوں اور بحریہ کے جنگی طیاروں سے قزاقی کی کسی کوشش کو ناکام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔ بحریہ کی یہ ذمے داری ہے کہ سمندر میں ہمارے ملک کے اثاثے اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔‘ خلیج عدن میں گشت کے لیے ہندوستانی جنگی جہاز بھیجنے کا فیصلہ 15 ستمبر کو اسی خطے میں صومالیائی قزاقوں کے ذریعے ایک جاپانی ملکیت کے مال بردار جہاز کے اغوا کیے جانے کے بعد کیا گیا۔ اس جہاز کے اٹھارہ ہندوستانی جہازراں گزشتہ دو مہینے سے صومالیائی قزاقوں کے قبضے میں ہیں۔ یہ قزاق ان کی رہائی کے لیے جاپانی کمپنی سے کئی ملین ڈالرکا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جاپانی کمپنی قزاقوں سے بات چیت کر رہی ہے۔ جبکہ جہازرانوں کے رشتے دار ہندوستان کی حکومت پر زرو ڈال رہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں برا راست مداخلت کرے۔ اطلاعات کے مطابق خلیج عدن میں گزشتہ نو مہینوں میں قزاقوں کی لوٹ مار اور اغوا اور برغمال بنائے جانے کے کم ازکم ساٹھ واقعات سامنے آئے ہیں۔ سویز نہر سےگزرنے والے سبھی ہندوستانی جہاز اسی خطے سے گزرتے ہیں۔ اطلاع کے مطابق ہندوستان نے صومالیہ کے آییل اور ہوبیو بندرگاہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سے بڑی تعداد میں قزاق صومالیائی سمندر میں سرگرم ہیں۔ ہندوستانی بحریہ اب ان پر گہری نظر رکھے ہو ئے ہے۔ صومالیہ میں برسوں کی خانہ جنگی کے سبب وہاں کے متعد خطےحکومت کی گرفت سے باہر ہیں۔ | اسی بارے میں صومالیہ، انڈیا جنگی جہاز بھیجےگا17 October, 2008 | آس پاس پینتیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ27 September, 2008 | آس پاس بھارت: جنگی طیاروں کیلیےٹینڈر طلب 29 August, 2007 | انڈیا ’ کلیمنسو بھارت نہیں آسکتا‘16 January, 2006 | انڈیا ’جہازوں کا قبرستان‘ زوال پذیر11 February, 2006 | انڈیا فرانسیسی حکومت کا ’زہریلا درد سر‘15 February, 2006 | انڈیا اسبسٹس لدا بحری جہاز انڈیا میں05 June, 2006 | انڈیا بلیو لیڈی کو اجازت، ماہرین مخالف02 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||