صومالیہ، انڈیا جنگی جہاز بھیجےگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے کہا ہے کہ صومالیہ کے آس پاس کے سمندر میں اپنے بحری جہازوں کو قزاقوں سے بچانے کے لیے وہ اپنی بحریہ استعمال کرے گا۔ وزارت دفاع کے ایک اہلکار کے مطابق ایک بحری جنگی جہاز فوری طور پر خلیج عدن روانہ کیا جائے گا اور ان کی تعداد بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔ صومالی سمندری قزاقوں نے اگست سے اٹھارہ ہندوستانی ملاحوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جن کے اہل خانہ ان کی رہائی کے لیے دلی میں احتجاج کر رہے ہیں۔ صومالیہ کے نزدیگ سمندر میں قزاقوں نے درجنوں جہازوں کو اغوا کر رکھا ہے۔ صومالیہ میں انیس سو اکیانوے سے کوئی باقاعدہ حکومت نہیں ہے اور ملک مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر کو بحر ہند سے جوڑنے والا خلیج عدن دنیا کے مصروف ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں پہلے سے ہی دنیا کے کئی ممالک کے جنگی جہاز موجود ہیں۔ قزاقوں نے ایک جاپانی جہاز کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کے عملے کے بائیس ارکان ہندوستانی ہیں۔
لیکن جہاز کے کپتان کی اہلیہ کے مطابق ہندوستانی حکام نے انہیں بتایا ہےکہ جنگی جہاز فوراً روانہ نہیں کیا جائے گا۔ سیما گوئل نے، جو احتجاج کی قیادت کر رہی ہیں، کہا کہ انہیں حکام نے بتایا ہے کہ ہندوستانی جنگی جہاز اس معاملے کے تصفیے کے بعد ہی بھیجا جائے گا۔ جہاز کے مالکان نے انہیں بتایا کہ قزاقوں سے مذاکرات جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق صومالیہ کے قریب اغوا ہونے والے جہازوں کو رہا کرانے کے لیے اس سال اب تک تین کروڑ ڈالر قزاقوں کو بطور تاوان ادا کیے جاچکے ہیں۔ حال ہی میں نیٹو نے بھی کہا تھا کہ وہ اس علاقے میں سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجے گا۔ اس علاقے میں ماہی گیروں کی کشتیوں، مال بردار جہاز اور دیگر کشتیوں پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ | اسی بارے میں صومالیہ کے خطرناک سمندری قزاق24 April, 2008 | آس پاس اہم صومالی رہنما نے ہتھیار ڈال دیے22 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی حملہ، متعدد ہلاک01 May, 2008 | آس پاس صومالیہ - مشرقی افریقہ کا افغانستان؟03 May, 2008 | آس پاس سترہ ملین افریقی امداد کے منتظر20 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||