سترہ ملین افریقی امداد کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ مشرقی افریقہ کے ممالک میں خوراک کی کمی سے متاثرہ افراد کی تعداد قریباً ایک کروڑ ستّر لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور وہاں قحط سے بچنے کے لیے سات سو ملین ڈالر امداد کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی کے سربراہ جان ہومز کا کہنا ہے کہ اس برس کے اوائل میں ایسے لوگوں کی تعداد نوے لاکھ کے لگ بھگ تھی لیکن علاقے میں خشک سالی، خوراک کی بڑھتی قیمتوں اور لڑائی کی وجہ سے اس میں قریباً دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان ہومز نے کہا کہ اگرچہ شمال مشرقی افریقہ میں خشک سالی نے ابھی قحط کی صورتحال پیدا نہیں کی ہے تاہم اگر امداد دینے والے ممالک نے امداد کے لیے درکار سات سو سولہ ملین ڈالر کی فراہمی میں تاخیر کی تو یہ علاقہ ایک مرتبہ پھر اسّی اور نوے کی دہائی میں پڑنے والے قحط جیسی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایتھوپیا، صومالیہ، جبوتی، یوگنڈا اور اریٹیریا جیسے ممالک اور کینیا کے کچھ شمالی علاقوں میں فوڈ سکیورٹی کی صورتحال دن بدن بگڑ رہی ہے۔ ہمارے خیال میں ان علاقوں میں تیس لاکھ بچوں سمیت سترہ ملین افراد ایسے ہیں جنہیں خوراک اور دیگر امداد کی فوری ضرورت ہے‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر علاقے میں خشک سالی جاری رہی تو اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس برس کے آخر تک ان سترہ ملین افراد کی مدد کے لیے اسے ایک ارب چالیس کروڈ ڈالر درکار ہیں اور اس کے پاس اس امدادی مشن کے لیے صرف چھ سو چوراسی ملین ڈالر ہیں جبکہ بقیہ سات سو سولہ ملین ڈالر امدادی ممالک کو دینا ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ایتھوپیا میں بارہ ملین، صومالیہ میں تین ملین، کینیا میں ایک اعشاریہ چار ملین جبکہ جبوتی میں دو لاکھ پینسٹھ ہزار افراد کو خوراک کی اشد ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں عالمی بینک، سوا ارب ڈالر کی امداد30 May, 2008 | آس پاس غذائي بحران پر اقوام متحدہ کی مدد 04 June, 2008 | آس پاس ’اربوں ڈالر کی امداد ضائع‘18 September, 2008 | آس پاس خوراک کا بحران، نئی ٹاسک فورس29 April, 2008 | آس پاس ’ریفرنڈم کی بجائے امداد پر توجہ دیں‘08 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||