عالمی بینک، سوا ارب ڈالر کی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے شدید متاثر ہونے والے ملکوں کے لیے مالی امداد مہیا کرے گا۔ یہ مالی امداد ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر کے اس امدادی پیکیج کا حصہ ہو گی جو عالمی بینک نے اس مقصد کے لیے تیار کیا ہے۔ اس پیکیج میں سے بیس کروڑ ڈالر کی رقم ان ملکوں کے لیے مختص کی گئی ہے جو اس غذائی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہاں قحط جیسی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ افریقی ممالک میں سے ہیٹی اور لائبیریا کو بھوک سے لاچار افراد کی غذائی امداد کے لیے ایک ایک کروڑ ڈالر کی رقم دی جائے گی جبکہ جِبوتی کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی اجناس کی کمیابی سے دس کروڑ افراد غربت کا شکار ہو جائیں گے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ جائزوں کے بعد ٹوگو، یمن اور تاجکستان کو ان ملکوں میں شامل کیا گیا ہے جنہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ عالمی بینک کے صدر روبرٹ زولک کا کہنا ہے کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ عالمی بینک مخصوص اقدامات پر توجہ دے۔ ’یہ اقدامات ان دو ارب افراد کو فوری طور پر بھوک اور خوراک کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے محفوظ کریں گے جو اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ امدادی رقوم سے ان ملکوں میں حکام سکولوں اور دیگر ضروری سروسز میں خوراک مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ بیج اور کھاد جیسے ضرورتی اشیاھ بھی خرید سکیں گے۔ عالمی بینک نے اس کے علاوہ دو ارب ڈالر کی مزید رقم بھی مختص کی ہے جو اگلے سال فصلوں کے بیمے جیسے زرعی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ |
اسی بارے میں ’خوراک کا بحران تیز ہو رہا ہے‘22 April, 2008 | آس پاس سستے ملبوسات کا دور خاتمے کے قریب 24 April, 2008 | آس پاس تیل قیمتیں: ریکارڈ اضافہ، معمولی کمی23 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||