BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 May, 2008, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قیمتوں میں جلد کمی ممکن نہیں‘
خوراک
گندم، مکئی اور آئل سیڈ فصلوں کی قیمتیں دو برس میں دگنی ہوگئیں
اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت’ایف اے او‘ کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی جانب سے طلب اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے ممکنہ طور پر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں جلد کم نہیں ہوں گی۔

’ایف اے او‘ کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں موجودہ اضافہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ایف اے او کے مطابق خراب موسم، طلب و رسد میں عدم توازن اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ قیاس آرائیوں کی وجہ سے بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایف اے او کی سالانہ آؤٹ لک رپورٹ میں یہ پیشنگوئی کی گئی ہے کہ سنہ 2017تک گندم کی قیمت میں ساٹھ فیصد اور خوردنی تیل کی قیمت میں اسّی فیصد اضافہ ہوگا جبکہ گائے اور سور کے گوشت کی قیمتیں بیس فیصد بڑھ جائیں گی۔

یاد رہے کہ دنیا میں سنہ 2005 سے 2007 کے درمیان گندم، مکئی اور آئل سیڈ فصلوں کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں اور ایف اے او کے مطابق اس مرتبہ ان قیمتوں میں کمی زیادہ جلدی دیکھنے میں نہیں آئے گی۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی آئے گی لیکن بایو فیول کی بڑھتی ہوئی طلب سے مستقبل میں قیمتیں بلند سطح پر ہی رہیں گی۔ آؤٹ لک رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک میرٹ کلف کا کہنا ہے کہ زراعت کے شعبے میں بایو فیول فصلوں کی کاشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اسی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

2017 تک گندم کی قیمت میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوگا

میرٹ کلف کے مطابق’امریکی حکومت کی جانب سے ایتھنول کی پیداوار کی حمایت بازار کو بگاڑ رہی ہے‘۔

تنظیم برائے خوراک و زراعت کے مطابق خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سب سے زیادہ اثر اس غریب طبقے پر ہو رہا ہے جو اپنی آمدن کا زیادہ تر حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔ میرٹ کلف کا کہنا ہے کہ’ہمیں اصل فکر غریبوں کی ہے اور خدشہ ہے کہ خوراک کی کمی کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگا‘۔

ایف اے او کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں کچھ افراد اپنی آمدن کا نصف سے زائد حصہ خوراک پر خرچ کر رہے ہیں اور یہ حالت خصوصاً ان ممالک میں ہے جو اپنی زیادہ تر خوراک درآمد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
پنجاب کی زہریلی کاشت
28 April, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد