خوراک: ضیاع میں ’حیرت انگیز‘ اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیق کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں لوگ چھتیس لاکھ ٹن خوراک بلا ضرورت کوڑے میں پھینک دیتے ہیں۔ دی ویسٹ اینڈ ریسورسز ایکشن پروگرام نامی تنظیم کی تحقیق کے مطابق کوڑے میں پھینکی جانے والی اشیاء میں سلاد، پھل اور ڈبل روٹی عام طور پر دیکھی گئی ہیں۔ تحقیق کے مطابق کوڑے میں پھینکی جانے والی عذائی اشیاء میں ساٹھ فیصد تو ایسی ہیں جن کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا تھا۔ برطانوی وزیر ماحولیات جون رڈوک کے مطابق اس تحقیق کے نتائج حیران کن ہیں کیونکہ یہ ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں خوراک کا بحران ہے۔ دوسری طرف دی ویسٹ اینڈ ریسورسز ایکشن پروگرام نے اسے ایک ماحولیاتی معاملہ قرار دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں ہر سال نو ارب پاؤنڈ مالیت کی غذائی اشیا کوڑے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ خوارک ہوتی ہے جسے اگر اچھی طرح سٹور کر لیا جائے تو وہ استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس میں خوراک کے وہ ٹکڑے بھی شامل ہیں جنہیں پلیٹ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ تر خوراک کونسل کے خوراک اور سبزے سے کھاد بنانے کے پروگرام میں جانے کے بجائے کوڑے کے ڈھیر میں چلی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں ’خوراک کا بحران تیز ہو رہا ہے‘22 April, 2008 | آس پاس خوراک کی قیمتوں پر مشترکہ پالیسی24 April, 2008 | آس پاس خوارک کے بحران پر عالمی تشویش05 May, 2008 | آس پاس ہنگاموں کا خوف، راشن کی خریداری15 February, 2008 | پاکستان پنجاب کی زہریلی کاشت28 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||