خوارک کے بحران پر عالمی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ایشیا میں غربت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں خوراک کے حالیہ شدید بحران کی وجہ سے رائیگاں جانے کا خدشہ ہے۔ بینک کے صدر ہورائیکو کورودا نے میڈرڈ میں ہونے والی بینک کی سالانہ کانفرنس میں کہا کہ سستی خوراک کا دور ختم ہو گیا ہے۔ امداد دینے والے ملکوں نے ایشیا کے غریب ترین لوگوں کی امداد کے لیے گیارہ ارب ڈالر کی رقوم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ دریں اثناء افریقی ترقیاتی بینک نے خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی اضافی امداد ددینے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن نے کہا کہ میڈرڈ میں جمع ہونے والے ہزاروں سرکاری اہلکاروں اور تاجروں کےذہنوں پر ایک ہی مسئلہ سوار تھا اور وہ تھا خوراک کا حالیہ بحران۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے سربراہ کورائڈو نے کہا کہ ایشیاء میں دیہی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے امداد کی رقوم مہیا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالنے کے لیے جو کوششیں کی گئی ہیں وہ اکارت ہو سکتی ہیں۔ بینک کے مطابق خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کا باعث بنیں گی اور ایشیا بھر میں قیمتوں میں کم از کم پانچ فیصد کی شرح سے اضافہ ہو گا جو کہ دس سال قبل ایشیاء میں آنے والے معاشی بحران کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ میں پیدا ہونے والے چاول کی قیمت ایک ہزار ڈالر فی ٹن ہو گئی ہے جو کہ بینک کے گزشتہ سالانہ اجلاس کے وقت آج کے مقابلے میں تین گنا کم تھی۔ کم پیداوار، عالمی حدت اور زیادہ سے زیادہ اراضی پر بائیو فیول کاشت کیئے جانے کو موجودہ خوارک کے بحران کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ملکوں نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے کئی ایک اقدامات کیئے ہیں۔ شام میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں میں فوری طور پر پچیس فیصد کا اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ تیل اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ بنگلہ دیش میں کپڑے بنانے والے کارخانوں کے مالکان کی انجمن نے کہا ہے کہ وہ غریب اور کم تنخواہوں پر کام کرنے والے ہزاروں کارکنوں کو ارزاں نرخوں پر چاول فراہم کریں گے۔ دنیا بھر میں غریبوں کی دو تھائی آبادی ایشیا میں ہے جہاں ایک اعشاریہ سات ارب لوگوں کی آمدن دو ڈالر روزانہ یا اس سے کم ہے۔ چاول درآمد کرنے والے بڑے ملک ویتنام اور بھارت مقامی لوگوں کو چاول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے درآمدات کم کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے خوراک کے عالمی بحران کے پیشِ نظر ایک اعلی اختیاراتی ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||