مصر میں خوردنی اشیاء کی مہنگائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں لبرل اور بائیں بازو کے سیاسی سرگرموں نے اتوار کو خوردنی اشیاء کی مہنگائی کے خلاف عام ہڑتال اور احتجاج کی اپیل کی ہے۔ مصر میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی قوت اخوان المسلمون نے اس ہڑتال کی تائید کی ہے۔ گزشتہ ماہ ہڑتال کی ایسی کوششیں لوگوں کی خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں کر سکی تھیں۔ لیکن اب گزشتہ دو روز سے ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی پولیس اور ٹیکسٹائل مزدوروں کے درمیان محالہ الکبریٰ میں جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ مزدور اپنے مطالبات کے حق میں الگ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ صدر حسنی مبارک نے حال ہی میں سرکاری شعبے کے ملازین کی تنخواہوں میں تیس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے تا کہ وہ معاشی مسائل کے باعث پیدا ہونے والی ناپسندیدگی کا حصہ نہ بنیں۔ تاہم احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شہریوں کی خاطر خواہ مدد نہیں کر رہی۔ تاہم ہڑتال کی اپیل کرنے والوں کے ایک نوجوان رہنما انجینئر احمد ماہر کا کہنا ہے ’ہم چاہتے ہیں کہ تنخواہیں اتنی ہوں کہ مہنگائی کا مقابلہ کیا جا سکے‘۔ انہوں نے مذید کہا کہ ’ہم حکومتی پارٹی میں شامل تاجروں کو منافع خوری سے روکنا چاہتے ہیں، ہم سماجی انصاف چاہتے ہیں، حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اپنا اثر و نفوذ استعمال کرنا پڑے گا‘۔ | اسی بارے میں مصر میں ہڑتال کے خلاف وارننگ06 April, 2008 | آس پاس مصر:دین بدلنے کی اجازت10 February, 2008 | آس پاس مصر:عورتوں کے ختنہ پر پابندی28 June, 2007 | آس پاس چار فریقی مذاکرات، بلیئر کا نیا کردار 21 June, 2007 | آس پاس مصر میں آئینی اصلاحات ریفرنڈم26 March, 2007 | آس پاس مصر میں غیر ملکی دہشت گرد گرفتار04 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||