مصر:عورتوں کے ختنہ پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصرنےعورتوں کے ختنہ پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان ختنہ کے آپریشن میں ایک لڑکی کی ہلاکت کے بعد لوگوں کے احتجاج پر کیا گیاہے۔ یہ پابندی دس سال پہلے نافذ کی گئی تھی لیکن یہ پابندی مکمل نہیں تھی کچھ واقعات میں ماہر ڈاکٹروں کے ذریعےختنہ کی اجازت تھی۔ لیکن چند روز قبل ہی مصر میں ختنہ کے دوران ایک بارہ سال کی لڑکی کی موت کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر اس سلسلے میں کارروائی کرنے پر دباؤ ڈالا۔ لڑکی کا آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کوگرفتار کر لیا گیا ہے۔ مصر کی خاتون اوّل سوزین مبارک لڑکیوں کی ختنہ کے خلاف کھل کر بولی تھی ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل عورتوں کے خلاف جاری نفسیاتی اور جسمانی تشدد کی کھلی مثال ہے۔ مصر کے سرکردہ مذہبی رہنماؤں نے بھی اس پابندی کی حمایت کی ہے۔مسلم اور عیسائی دونوں ہی مذاہب کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ختنہ کی بات نہ تو قران میں کہی گئی ہے اور نہ ہی بائبل میں ۔ حالیہ جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصر میں تقریباً نوے فیصد لڑکیوں کے ختنے کئے جاتے ہیں۔ مصر میں یہ روایت مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں ہی میں عام تھی اس کے علاوہ افریقی ممالک میں بھی اس کا رواج ہے لیکن عرب ممالک میں ایسے واقعات شاذو نادر ہی ملتے ہیں۔ قدامت پسند گھرانوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کی ختنہ کر کے ان کی پاکیزگی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ وزارتِ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ڈاکٹر یا طب کے پیشے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو کہیں بھی یہ آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ترجمان کے مطابق اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ | اسی بارے میں ختنوں سے انفیکشن کا خطرہ کم14 December, 2006 | آس پاس کینیڈا کے اصول، مسلمان برہم31 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||