 | | | جلد کے اوپر کے خلیے ایچ آئی وی انفیکشن کا جلد شکار ہوتے ہیں |
دو افریقی ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مردوں میں ختنوں کی وجہ ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی کے پھیلنے کی شرح میں پچاس فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج اتنے واضح تھے کے امریکی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے فیصلے کیا کہ اس کے لیے کیے جانے والے ٹرائلز یا تجربوں کو روک دینا چاہیئے۔ یہ تحقیق جنوبی افریقہ میں کی جانے والی ایک اور تحقیق کی حمایت کرتی ہے کہ ختنوں سے ایڈز کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک بڑی دریافت ہے لیکن پھر بھی انفیکشن سے بچنے کے لیے کنڈوم کا بدل نہیں ہے۔
 | | | ختنے صدیوں پہلے بھی کیے جاتے تھے |
یہ ٹرائل یوگنڈا اور کینیا میں کیے گئے جہاں طبی سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ ختنہ کرنے سے مردوں کو ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی سے بچایا جا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے کہا ہے کہ اس تحقیق سے طبی شعبے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ادارہ کے ایک ڈاریکٹر ڈاکٹر کیون دی کک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض افریقی ملکوں میں ختنہ پالیسی کو متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ ’ کینیا میں جو تحقیق کی گئی اس سے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر تقریباً تریپن فیصد کمی کی جاسکتی ہے جبکہ یوگنڈا میں اڑتالیس فیصد یعنی نصف مریضوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں افریقی ممالک میں ایڈز کے مریضوں کے لیے اس سے اچھی خبر اور کیا ہوسکتی ہے‘۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کک نے کہا کہ ختنہ کرنے سے کروڑوں لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ |