مصر میں آئینی اصلاحات ریفرنڈم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر میں ان آئینی اصلاحات پر ووٹنگ جاری ہے جن پر حزب اختلاف نے کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ان اصلاحات کے نتیجے میں مصر پولیس سٹیٹ بن جائے گا۔ آئین میں کی جانے والی چونتیسویں ترمیم کے نتیجے میں مصر میں ایسی سیاسی جماعت کی تشکیل ممنوع ہو جائے گی جس کی تشکیل مذہب کے بنیاد پر کی گئی ہو۔ حکومت کا کہنبا ہے کہ ان تبدیلیوں سے جمہوریت کی بنیادیں گہری ہوں گی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں مدد ملے گی۔ مصر میں سیکولر اور اسلام پسندوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کریں۔ اگر مبینہ آئینی اصلاحات کو حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو انسدادِ دہشت گردی کے ان قوانین کی جگہ نئے قوانین بنائے جائیں گے جو ملک میں 1981 سے نافذ ہیں اور جنہیں ہنگامی طور پر نافذ کیا گیا تھا۔ ان قوانین کے تحت پولیس کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں جن کے تحت وہ کسی کو بھی گرفتار کر سکتی ہے۔ ان ترامیم کے نتیجے میں انتظامیہ کو ایسے تمام ادارے بند کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے گا جن کا مذہبی جماعتوں سے تعلق ہو۔ اس کے علاوہ انتخابی قوانین میں ایسی تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں انتخابات میں عدلیے کا کردار محدود ہو جائے۔ | اسی بارے میں مصر: آئین میں ترمیم کی تجویز26 February, 2005 | آس پاس ’مصری باشندے رہا کیے جائیں‘ مصر19 November, 2004 | آس پاس اسرائیلی ’غلطی‘: تین مصری ہلاک18 November, 2004 | آس پاس فرعون کی موت کا معمہ14 November, 2004 | نیٹ سائنس مصر میں بم دھماکے، 30 ہلاک07 October, 2004 | صفحۂ اول بغداد سے دو مصری باشندے اغوا24 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||