بغداد سے دو مصری باشندے اغوا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کچھ مسلح افراد نے مصر کے دو باشندوں کو بغداد میں ان کے دفتر سے اغوا کرلیا ہے۔ دونوں مصری باشندے ٹیلی مواصلات کی ایک کمپنی میں محافظ تھے۔ پولیس کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے دونوں کو بغداد میں ان کے دفتر کے باہر باندھ دیا اور اٹھا لے گئے۔ مارچ دو ہزار تین سے عراق میں ایک سو سے زائد غیرملکیوں کو اغوا کیا جاچکا ہے۔ ان میں بیشتر کو رہا کردیا گیا ہے لیکن ستائیس ہلاک کردیے گئے۔ کئی عراقیوں کو بھی اغوا کیا گیا، عام طور پر تاوان کیلئے۔ عراقی وزارت داخلہ کے اہلکار کرنل عدنان عبدالرحمان نے اے پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ دونوں مصری باشندوں کو رات کے وقت اغوا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح حملہ آوروں نے دونوں کو ایک بی ایم ڈبلیو میں لے گئے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ مصریوں کو اغوا کرنے والے کون ہیں۔ جس ٹیلی مواصلات کی کمپنی کے لئے وہ کام کررہے تھے، اس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ دریں اثناء برطانوی یرغمالی کینیتھ بِگلی کی رہائی کے لئے اپیلیں کی جارہی ہیں۔ ان کے ساتھ یرغمال بنائے جانے والے دو امریکی یرغمالیوں کو ان کے اغواکاروں نے ہلاک کردیا ہے۔ کینیتھ بِگلی کی چھیاسی سالہ ماں، ان کی بیوی اور دیگر گھروالوں نے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ کے شہر لیورپول میں جہاں کے وہ رہنے والے ہیں لوگوں نے ان کی رہائی کے لئے دعائیں مانگی ہیں۔ حال ہی میں دو اطالوی خواتین کو بغداد سے اغوا کرلیا گیا تھا اور اس طرح کی اطلاعات ملتی رہی ہیں کہ انہیں قتل کردیا ہے تاہم اطالوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کرسکتی ہے۔ اٹلی میں عوام امید کررہے ہیں کہ شاید دونوں اطالوی خواتین زندہ ہوں۔ دریں اثناء عراقی وزیراعظم ایاد علاوی نے امریکی کانگرس سے خطاب میں کہا ہے کہ عراق میں انتخابات پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق جنوری میں منعقد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد عراق کے اٹھارہ میں سے صرف تین صوبوں میں ہے۔ ادھر امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اعتراف کیا ہے کہ عراق کے کچھ علاقوں میں، جہاں شدت پسند سرگرم ہیں، ہوسکتا ہے انتخابات منعقد نہ ہوسکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||