چار فریقی مذاکرات، بلیئر کا نیا کردار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم ایہود اولمرت پیر کو مصر میں فلسطینی، مصری اور لبنانی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ ایک اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ چار فریقی مذاکرات ’معتدل عناصر کو مضبوط کریں گے اور اسرائیل فلسطین تعلقات کو فروغ دیں گے۔‘ ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے صدر جارج بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے مشرق وسطیٰ میں ایلچی بننے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ دو ہزار چھ میں انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد سے اسرائیلی وزیر اعظم اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ مصر میں چار فریقی مذاکرات کے اعلان سے قبل محمود عباس نے غزہ پر حماس کے قبضے کو تختہ الٹنے کی ایک خونریز کوشش قرار دیا۔الفتح کے رہنما نے اس کے علاوہ حماس پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ غزہ میں اپنی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔
لبنان میں حماس کے ایک رہنما اسامہ ہمدان نے محمود عباس کے بیانات کو ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیا۔ جمعرات کو محمود عباس کے ایک سینیئر مشیر نے کہا کہ صدر عباس مصر میں ایہود اولمرت، لبنان کے شاہ عبداللہ اور میزبان صدر حسنی مبارک کے ساتھ ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کہیں گے۔ مشیر کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں جو چیز سب سے اہم ہے وہ وقت ہے۔ ہمیں جلد از جلد لوگوں کو قبضے کے خاتمے اور ایک فلسطینی ریاست کی خبر دینا ہے۔ اگر ہم پُرامید نہیں تو حماس لوگوں میں مایوسی کی خبر پھیلائی گی۔‘ اس سے قبل غزہ میں حماس کے ایک سینیئر رکن نے کہا کہ ان کی تنظیم الفتح کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ فلسطینی علاقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کے زخم بھرے جا سکیں۔ سمیع ابو زھری کے مطابق ’ ہمارا خیال ہے کہ واحد راستہ الفتح کے ساتھ مذاکرات ہیں۔‘ وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے مشرق وسطیٰ میں ایلچی بننے کی پیشکش کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے دو سینیئر ارکان نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم کے مشریروں نے اشارہ دیا ہے کہ ٹونی بلیئر اس قسم کا کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ارکان کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ صدر بش کی خوہش ہوگی کہ ٹونی بلیئر امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ کے نمائندے کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ تاہم وزیر اعظم بلیئر کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ اگرچہ ٹونی بلیئر کے مستقبل کے بارے میں کئی افواہیں گردش میں ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر ’ غیر درست‘ ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں ہونے والی بات چیت ابتدائی نوعیت کی تھی تاہم اہلکاروں نے یہ نہیں بتایا کہ اس تجویز کے جواب میں ٹونی بلیئر کا رد عمل کیا تھا۔ لیکن بعد میں بش انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل کو بتایا کہ اسرائیل اور فلسطینی پہلے ہی اس تجویز پر اپنی رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود ٹونی بلیئر یا ان کے مشیر اس پر رضامند ہو گئے ہیں۔‘ نامہ نگار نے مزید کہا: ’ لگتا ہے کہ ٹونی بلیئر کی اگلی ملازمت یہی ہوگی اور یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ٹونی بلیئر یہ چاہتے ہیں۔ کم از کم مجھے واشنگٹن سے تو یہی پیغام ملتا ہے۔‘ تاہم جوناتھن بِیل کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حتمی طور پر ابھی کچھ نہیں ہوا اور ابھی مزید بات چیت ہو گی۔ ٹونی بلیئر دس سال تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہنے کے بعد ستائیس جون کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل وزیر خارجہ سپی لبنی اور فلسطینی کی ایمرجنسی حکومت کے وزیر اعظم سلام فیاض کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والی بات چیت کے بعد دونوں حکومتوں کے درمیان باضابط رابطہ قائم ہوگیا۔ | اسی بارے میں اسرائیل پر ایرانی بیان سے ’مایوسی‘09 June, 2007 | آس پاس فلسطین کے حق میں لندن میں مظاہرہ09 June, 2007 | آس پاس فلسطینی معاشرہ انتشار کے قریب؟15 June, 2007 | آس پاس ’حماس۔فری‘ کابینہ اسرائیل کو منظور17 June, 2007 | آس پاس اقتصادی پابندی ختم، تعاون بحال18 June, 2007 | آس پاس محمود عباس سے تعاون پر آمادہ20 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||