BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محمود عباس سے تعاون پر آمادہ
دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات نوے منٹ تک جاری رہی
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے فلسطینی صدر محمود عباس کو بھرپور مدد کی پیکش کی ہے۔

امریکی صدر اور اسرائیل وزیر اعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس کی طرف سے تشکیل دی جانے والی حکومت جس میں حماس کو شامل نہیں کیا پوری طرح تعاون کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے محمود عباس کو سارے فلسطینی عوام کا صدر کہا کر مخطاب کیا۔

ایہود اولمرت نے کہا کہ صدر محمود عباس کے ساتھ مستقل رابطہ رکھنے پر تیار ہیں۔

غزہ میں حماس کے مسلح افراد کے قبضے کے بعد صدر بش اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان واشنگٹن میں ملاقات ہوئی۔

یہ ملاقات نوے منٹ تک جاری رہی تاہم اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان کن امور پر تبادلہ خیال ہوا اس بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کچھ نہیں بتایا گیا۔

واشنگٹن میں ہونے والی صدر بش اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت کی اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے حماس کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد حماس کو تباہ کرنا ہے۔

اس ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں نے محمود عباس فلسطینی علاقوں میں اعتدال پسندی کی بات کرتے ہیں۔

بش اور اولمرت نے کہا کہ وہ شدت پسندوں کے درمیان معقولیت کی آواز ہیں۔

اولمرت نے حماس کی شدت پسندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ محمود عباس سے تعاون کرنے اور ہر پندرہ دن بعد ان سے ملاقات کو ممکن بنانے کی کوشش کریں گے۔

صدر بش نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ محمود عباس اور وزیر اعظم فیاض اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ فلسطینوں کو مختلف سمت میں لے جا سکیں۔

لیکن دو رہنماؤں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے تسلط کے بارے میں کیا کریں گے۔

واشگٹن میں مذاکرات سے قبل ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل غزہ پر اقتصادی پابندیاں کو مزید سخت بنانے کے حق میں ہے۔

تاہم اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس حق میں نہیں کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مہیا کی جانے والی امداد ان لوگوں تک نہیں پہنچے جن کو اس کی ضرورت ہے۔

ان مذاکرات سے ایک روز قبل یورپی یونین اور امریکہ نے اٹھارہ مہینے سے فلسطینی اتھارٹی پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

الفتح جنگجوحماس نہیں عباس
فلسطین پر امریکہ اسرائیل مذاکرات
’فلسطین کا انتشار‘
غزہ میں خونریزی کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
غزہ حماس کے کنٹرول
سیکورٹی ہیڈکوارٹرز پر حماس کا قبضہ
اسرائیلی فوجیں’مجھے جانا ہوگا‘
سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کا ایک احوال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد