مصر:دین بدلنے کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کی عدالت نےان بارہ عیسائیوں کا عقیدہ سرکاری طور پر قبول کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نےاسلام قبول کرنے کے بعد واپس عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ عدالت نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو رد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اسلام سے دوسرے مذہب میں شامل ہونے کے عمل کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہ مقدمہ مصر کی مذہبی رواداری کا ایک امتحان تھا۔ ان بارہ عیسائیوں کے وکیل نے اس فیصلے کو مذہبی آزادی اورانسانی حقوق کی جیت قرار دیا ہے۔وکیل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ان لوگوں کو حوصلہ ملے گا جو واپس اپنا مذہب بدلنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس فیصلے کا اطلاق محدود حالات میں ہوگا بتایا جاتا ہے کہ جج نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کو اسلام ترک کرنے کی بنیاد پر مرتد قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ دراصل عیسائی پیدا ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ جو مصری مسلمان پیدا ہوئے ہیں انہیں مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ اسلام ترک کرنا غلط ہے اور کچھ کے خیال میں اس کی سزا موت ہے۔ گزشتہ برس ایک مصری شہری کو تبدیلیِ مذہب کے بعد اس وقت روپوش ہونا پڑا جب اس نے اپنے نئے مذہب کو سرکاری طور پرتسلیم کرانے کی کوشش کی اور اسے موت کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ | اسی بارے میں ملائشیا: عیسائی ماننےکی اپیل رد30 May, 2007 | آس پاس ’پروپیگنڈا‘ کرنے پر بہائیوں کو سزا29 January, 2008 | آس پاس مذاہب نفرت کے آلۂ کار نہیں:پوپ21 October, 2007 | آس پاس مسلم، عیسائی ہم آہنگی کی اپیل11 October, 2007 | آس پاس ٹیچر پر توہینِ رسالت کا الزام29 November, 2007 | آس پاس ترکی: حجاب پلان کے خلاف احتجاج 02 February, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||