’پروپیگنڈا‘ کرنے پر بہائیوں کو سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو موجودہ نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا دی گئی جبکہ اکیاون افراد کو قید کی معطل سزا سنائی گئی ہے۔ عدلیہ کے ترجمان علی رضا جمشیدی کے مطابق ان افراد کو ایران کے شہر شیراز میں سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکیاون افراد کی سزا اس صورت میں معطل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کے تجویز کردہ کورسز میں داخلہ لیں۔ ہفتہ وار بریفنگ کے دوران علی رضا نے کہا کہ اکیاون افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کو پچھلے سال کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا اور حکومت کا کہنا ہے کہ یہ افراد غریب لوگوں کی فلاح کے بہانے نظام کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ ایرانی آئین میں اسلام، عیسائیت، یہودیت اور زرتشت مذاہب کو جائز تصور کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں ’اخلاقی برائیاں‘، ایرانی مہم13 November, 2007 | آس پاس ’مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں‘09 March, 2006 | آس پاس مساوی حقوق اور ایرانی عورت 08 March, 2007 | آس پاس برطانوی بحریہ کے اہلکار وطن روانہ05 April, 2007 | آس پاس فیشن پولیس کی نظر اب مردوں پر29 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||