 | | | انڈونیشیا میں چاول کی پیداوار |
ایشیائی ترقیاتی بینک نے خبردار کیا ہے غذا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب خطے میں غربت کے خاتمے کے لیے کی جانے والی پیش رفت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بینک کے صدر ہاروہیکو کرودا نے میڈرڈ کی سالانہ میٹنگ میں خبردار کیا کہ ’سستی غذا کا دور‘ اپنے خاتمے پر ہے۔ امداد دینے والے ممالک نے ایشیا کے غریب ترین لوگوں کے لیے گیارہ بلین ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے۔ دنیا میں دو تہائی غریب ترین افراد ایشیا میں بستے ہیں۔ چاول پیدا کرنے والے بڑے ممالک جیسے کہ ویتنام اور انڈیا نے مقامی ضروریات پورا کرنے کے لیے اپنی برآمدات محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صرف ایک برس میں تھائی چاول کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی کے ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ میڈرڈ میں جمع ہونے والے ہزاروں سرکاری نمائندوں اور کاروباری مندوبین کے لیے اہم ترین مسئلہ غذا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ ہاروہیکو کرودا کا کہنا ہے کہ ایشیا کے دیہاتوں میں ترقیاتی پرجیکٹس کے لیے مالی امداد انتہائی اہم ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق اس سال افراطِ زر میں پانچ فیصد اضافے کا امکان ہے۔ دوسری طرف بحران سے نمٹنے کے لیے افریقی ڈویلپمینٹ بینک نے بھی تین اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر کے دیئے جانے والے زرعی قرضوں میں ایک بلین کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔
|