خوراک کی قیمتوں پر مشترکہ پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاطینی امریکہ کے چار بڑے رہنماؤں نے مل کر ایک سو ملین ڈالر کی ایک ایسی سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے علاقے کے غریب لوگوں پر خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثر کو کم کیا جاسکے گا۔ نکاراگوا، بولیویا، وینیزویولا اور کیوبا کے صدور نے علاقے میں زرعی ترقی کے فروغ کے لئیے مشترکہ پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیاہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اور چین اور انڈیا میں خوراک کی طلب میں اضافے کی وجہ سے غذائی اشیا کے نرخوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیوبا اور وینیزیولا جیسے ممالک جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس اضافے کو حال ہی ایک رپورٹ میں ’خاموش سونامی‘ کا نام دیا تھا۔ اس سربراہی ملاقات کے میزبان وینیزویولا کے صدر ہیوگو چاویز نے کہا کہ حوراک کی قیمتوں میں اضافہ سرمایہ داری نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ مسٹر چاویز نے اپنے ہم منصبوں سے کہا کہ انہیں مل کر ڈسٹری بیوشن کا ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے ’منڈی میں مڈل مین اور قیاس آرائیاں کرنے والوں سے نجات مل سکے جن کی وجہ سے لاکھوں لوگ خوراک حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔‘ اس سربراہی ملاقات میں اس پروگرام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں لیکن نکاراگوا کے صدر ڈینئیل اورٹیگا نے کہا کہ ’خاص طور پر غریب ممالک کے لئے یہ ایک بہت ہی اہم مسلہ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال میں چاول کی قیمت میں ستر فیصد کا جبکہ گندم کی قیمت میں ایک سو تیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس کا سماج پر گہرا اثر ہورہا ہے۔ | اسی بارے میں نصف آبادی غذائی قلت کا شکار 22 April, 2008 | پاکستان ’خوراک کا بحران تیز ہو رہا ہے‘22 April, 2008 | آس پاس غریبوں کے لیے اناج بینک کا قیام16 April, 2008 | انڈیا خوراک کے عالمی بحران کا خطرہ 13 April, 2008 | آس پاس ’لاکھوں افراد کی فاقہ کشی کا خطرہ‘13 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||