غریبوں کے لیے اناج بینک کا قیام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاقہ کشی اور غربت سے نمٹنے کے لئے حکومت بہار ’اناج بینک‘ شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ بینک خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو بغیر سود کے اناج فراہم کرےگا اور قرض لینے والوں کو یہ آزادی ہوگی کہ وہ اناج کو قسطوں میں واپس کر سکیں۔ بہار میں خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد ایک کروڑ پچیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ عالمی پیمانے پر اناج کی بڑھتی قیمتوں کے مدنظر یہ بینک غریبوں کے لئے ایک سہارا ثابت ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے کسانوں کے پاس فصل تیار ہونے کے موسم میں اناج کی کمی نہیں ہوتی لیکن فصل تیار ہونے کے پہلے ان کے گھروں میں اناج کی قلت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ بینک فاقہ کشی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتاہے۔ چونکہ یہ بینک خط افلاس ( بی پی ایل) سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی خاطر شروع کیا جا رہا ہے اس لیے حکومت کا کہنا ہے کہ ان بینکوں کی نگرانی کمیٹی میں بی پی ایل کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائیگا۔ فوڈ اینڈ کنزیومر پروٹیکشن محکمہ کے ڈائریکٹر پارس کمار سنگھ کہتے ہیں’ ترجیحی بنیاد پر یہ بینک ان علاقوں میں شروع کیا جائےگا جہاں درجہ فہرست ذاتوں اور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔‘ ان کا کہنا ہےکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اناج کی کمی کے پیش نظرحکومت ان علاقوں میں بھی بینک کھولے گی تاکہ غریب عوام اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ ابتدای دور میں ریاست میں 415 گرین بینک شروع کیے جائیں گے۔ پارس کمار سنگھ کہتے ہیں’ مرکزی حکومت فی بینک چالیس کوینٹل اناج مہیا کرانے پر راضی ہو گئی ہے جب کہ باقی وسائل اور اس کے رکھ رکھاؤ کے لیے ریاستی حکومت کو پچاس فی صد خرچ برداست کرنا پڑےگا۔‘ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے مشرقی چمپارن کے کسان باسودیو شاہ کہتے ہیں’ اگر حکام اور درمیانی لوگوں کی طرف دھاندلی نہیں ہوئی تو یہ بینک غریب اور ضرورت مندوں کو فاقہ کشی سے نجات دلانے میں اہم کردار اداکر سکتے ہیں۔‘ ’پیپلس کمیشن آن فیلڈ ‘ کے رکن سیکریٹری ستیہ نارائن مدن سیلاب متاثرین اور غریبوں کے درمیان کافی کام کر چکے ہیں۔ اناج بینک کی ذمہ داریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں’ حکومت کا یہ قدم ایسے لوگوں کے لئے کافی فائدہ مند ہو سکتا ہے جن کے پاس اناج کی اتنی پیداوار ہوتی ہو جو فصل تیار ہونے کے موسم میں بینکوں کا قرض واپس کر سکیں۔‘ ستیہ نارائن مدن حکومت کی اس پالیسی پر سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومت کو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ خط افلاس سے نیچے کے لوگ قرض واپس کرنے کے کتنے اہل ہو سکتے ہیں کیونکہ خط افلاس کے نیچے کے بیشتر عوام قرض واپس کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ | اسی بارے میں اترپردیش: بھوک کے ہاتھوں اموات06 March, 2008 | انڈیا انڈیا: لڑکیوں کی مالی مدد کا اعلان05 March, 2008 | انڈیا بہار: فصلوں کو شدید نقصان25 August, 2007 | انڈیا کئی ریاستوں میں حالات سنگین 19 August, 2007 | انڈیا بھارتی غریبوں کے لیےسوشل سکیورٹی24 May, 2007 | انڈیا چونم کومزدوری سےنجات مل گئی30 November, 2006 | انڈیا بھارت کا دیہی ترقی کا پروگرام15 November, 2004 | انڈیا میں ڈاکٹر بنوں گی۔۔۔10 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||