اترپردیش: بھوک کے ہاتھوں اموات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے گھور پٹی گاؤں کی جٹائی نامی خاتون نے گزشتہ 18 برس میں اپنے خاندان کے پانچ افراد کھو دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’ان سبھی کی موت کی وجہ بھوک تھی۔‘ ’ہمارے پاس کوئی زمین نہیں ہے اور جب ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہوتا ہے تو کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہوتا ہے۔ میرے شوہر کی موت اسی وجہ سے ہوئی کونکہ انہیں کوئی کام نہیں ملا ۔ ہمارے پاس تقریبا آٹھ دنوں تک کھانے کو نہیں تھا‘۔ 19 سالہ سرینیواس مشہارا اگست دو ہزار چھ میں مرگئے تھے۔ ان کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیس دنوں تک کچھ نہیں کھایا تھا۔ ان کی والدہ کانتی بھی دیکھنے میں بے حد کمزور نظر آتی ہیں۔ وہ اس قدر کمزور ہو چکی ہیں کہ بات کرنے کے لیے کھڑے ہونے میں بھی انہیں دقت پیش آتی ہے۔
کانتی کے چھوٹے سےگھر میں جب دوپہر کے کھانے کی بات آئی تو کھانے میں دو مٹھی چاول، جو پڑوس سے مانگے گئے تھے، اور کچھ ابلی ہوئی موسمی سبزیاں تھیں۔ بھری دوپہر میں بھی کانتی کی جھوپڑی میں اندھیرا چھایا رہتا ہے۔ چھت میں سوراخ ہونے کی وجہ سے بارش میں پانی گھر کے اندر آتا ہے اورگھر میں دو چارپائیاں ہیں جس میں ایک پر ان کے دو بچے اور دوسرے پر وہ خود سوتی ہیں۔ کانتی کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ وہ مر رہی ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ انہیں ٹی بی ہے۔ کانتی کہتی ہیں’ میرے پاس نہ تو ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے پیسے ہیں اور نہ ہی دوا خریدنے کے لیے‘۔ کانتی اور جٹائی جن گاؤں ميں رہتی ہیں وہ ریاست اتر پردیش کے کوشی نگر ضلع میں آتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ دو ہزار تین سے دو ہزار چھ کے درمیان اس ضلع میں بھوک یا فاقہ کشی سے کم از کم 52 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن سرکار بھوک سے ہونے والی اموات کی خبروں کی تردید کرتی ہے۔ سرینیواس مشہارا کے معاملے میں سرکاری ریکارڈ بتاتے ان کی موت کی وجہ بیماری تھی۔
ریاستی حکومت کے اعلی اہلکار شیلیش کرشنا کا کہنا ہے’ ریاست میں بھوک سے موت ہونے کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آيا ہے۔بعض علاقوں میں غذایت کی کمی کا معاملہ سامنے آئے ہے لیکن وہ تو پورے ملک کی پریشانی ہے۔ غریبی تو پورے ملک میں ہے اسے ایک دن میں ختم تو نہیں کیا جا سکتا ہے‘۔ لیکن حکومت کی اس دلیل پر بہت کم افراد یقین کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن منوج کمار سنگھ کا کہنا ہے’یہ ایک تشویش ناک بات ہے کہ جب ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو بھوک سے ہونے والی اموات کو سرے سے خارج کر دیتی ہے اور جیسے ہی حزب مخالف ميں آتی ہے تو ایسی اموات کے بارے میں زور زور سے شور مچانے لگتی ہے‘۔ کشی نگر ضلع کا دورہ کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہاں ہندوستان کی تیزی سے ہونے والی ترقی کا ایک حصہ بھی نظر آتا ہے۔ یہاں کی بیشتر آبادی کا تعلق موساہار - دلت - برادری سے ہے۔ انہیں موساہار اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ چوہوں کا شکار کر کے انہیں کھاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر بے حد غریب ہیں اور زمین نہ ہونے کے سبب مزدوری کرتے ہیں۔
منوج کمار سنگھ بتاتے ہیں کہ پہلے اس علاقے میں کھیتی کے لیے مزدوروں کی ضرورت ہوتی تھی لیکن مشینوں کے آنے کے بعد کیھتوں میں ان کی ضرورت ختم ہو گئی۔ یہاں تک کی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی روزگار گارنٹی سکیم کا بھی یہاں کے افراد کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ جن لوگوں نے کام کے لیے اپنا اندراج کروایا انہیں کام نہيں ملا اور جنہیں کام ملا انہیں کام کے پیسے دیے جانے کا صرف وعدہ کیا گیا۔ مرکزی حکومت کی اس سکیم کے تحت دیہی گھرانے کو سال میں ایک سو دن کے روزگار کی ضمانت فراہم کیا جاتا ہے۔ بدعنوانی کے سبب اس اسکیم کے تحت کام کرنے والوں کو کبھی پچاس تو کبھی اسی روپے دیے جاتے ہیں اور بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انہیں کچھ بھی نہیں دیا جاتا ہے۔ سمابی تحفظات اور ملازمت کی غیر موجودگی ان افراد کو غیر مناسب قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔ ترکل ون نامی گاؤں کی آسیہ کے آٹھ بچے ہیں اور جب ان کے گھر گزشتہ اکتوبر نویں بچی پیدا ہوئی تو انہوں نے مبینہ طور پر اس بچی کو دو سو روپے میں ایک ایسے جوڑے کو بیچ دیا جن کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ آسیہ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتی ہیں ’جس عورت نے بچہ لیا ہے اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس نے مجھے دو سو روپے دیے لیکن وہ صرف میری مدد کرنے کے لیے تھے‘۔ آسیہ کے خاندان کے پاس کوئی زمین نہیں ہے۔ کبھی کبھی مزدوری کر کے ان کے شوہر ایک دن میں پچاس روپے کماتے ہيں۔ آسیہ بھی کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور ایک دن میں بیس روپے کماتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں کے باوجود حکومت اس علاقے کو پوری طرح نظر انداز کیے ہوئے ہیں اور اس درمیان مرنے والوں کی تعداد ميں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں معاشی ترقی اور بڑھتی ہوئی غربت19 October, 2006 | انڈیا انڈیا: پولیومیں اضافہ 22 September, 2006 | انڈیا ماؤ رہنما ہلاک، کشیدگی عروج پر24 July, 2006 | انڈیا کیرالا کے کسانوں کی حالت زار01 July, 2006 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کا بھارت کو ’لال سلام‘22 June, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||