انڈیا: لڑکیوں کی مالی مدد کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت نے لڑکیوں کی بہتر پرورش کے لیے غریب خاندانوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی ایک سکیم کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اس سکیم کے تحت لڑکی کی پیدائش سے لےکر اٹھارہ برس کی عمر تک اسے کئی مرحلوں پر تقریبًا ایک لاکھ بیس ہزار روپے کی مدد فراہم کرے گی۔ سکیم کا مقصد ملک میں رائج رحمِ مادر میں بچیوں کے اسقاط یعنی ’فیمیل فیٹیسائڈ‘ کو روکنا ہے۔ حمل کے دوران دُختر کشی کی وجہ سے ملک میں مردوں اور عورتوں کا توازن بگڑ رہا ہے۔ ہندوستان میں سنہ انیس سو چورانوے میں بنائےگئے ایک قانون کے تحت پیدائش سے قبل بچے کی جنس معلوم کرنا جرم ہے، لیکن آج بھی ملک گیر سطح پر لوگ پیدائش سے قبل چوری چھپے جنس کے تعین کے لیے طبی معائنے کراتے ہیں۔ ایک برطانوی جریدے کے مطابق گزشتہ بیس سالوں میں ہندوستان میں تقریبًا ایک کروڑ بچيوں کو پیدائش سے قبل مار دیا گيا ہے۔ نئی سکیم کے تحت سات ریاستوں میں غریب گھروں میں لڑکی کی پیدائش پر انہيں نقد رقم دی جائے گی اور مدد کا یہ سلسلہ لڑکی کی اٹھارہ برس کی عمر تک جاری رکھا جائے گا۔ خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کی وزير رینوکا چودھری نے امید ظاہر کی ہے کہ سکیم کے آنے سے ملک میں لوگ لڑکیوں کو ایک بوجھ کی بجائے اثاثہ سمجھیں گے۔ ایک خاتون سماجی کارکن بجایا لکشمی نندا نے حکومت کے سکیم کا خیرمقدم کیا ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ مدد صرف غریبوں تک محدود نہيں رکھی جانی چاہیے۔’ مادہ جننین کا تعین وہ افراد کراتے ہيں جو خط افلاس سے اوپر ہيں اور ان کا تعلق شہری، متوسط اور خوشحال طبقے سے ہے۔‘ نندا کا کہنا ہے کہ’ لڑکیوں پر معاشرے میں سماجی اور ثقافتی لحاظ سے بے پناہ دباؤ ہوتا ہے،ا س لیے جہیز اور وراثت میں لڑکیوں کے حقوق اور ان کے اختیارات جیسے مسائل کی جانب بھی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو بنیادی سکیم وضع کرنی چاہیے تا کہ سماج میں عورتوں کے ساتھ تفریق کاخاتمہ ہوسکے اور روز بروز ترقی کی نئی منازل طے کرتے ہوئے ہندوستان سے ان کو بھی فائدہ مل سکے۔ اس سے عورتوں کی سماجی حالت میں واقعی اور یقینی پیش رفت ممکن ہوسکے گی۔ |
اسی بارے میں یہ اپّن پروگرام ہے22 December, 2007 | انڈیا آندھرا پردیش: قطرہ قطرہ بنے دریا ۔۔۔۔15 March, 2006 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا لڑکا چاہیے: ایک کروڑ لڑکیاں ہلاک09 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||