پنجاب کی زہریلی کاشت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اجناس کی قیتوں پر بہت سے ترقی پذیر یا غریب ممالک کی حکومتیں پریشانی میں مبتلا ہیں۔ بھارت کے صوبہ پنجاب میں بھی بہت سے مشکلات درپیش ہیں جہاں ایک زمانے میں ایسا لگتا تھا کہ زراعت میں جدید تحقیق نے بھوک کا توڑ نکال لیا ہے۔ بھارت کے صوبے پنجاب میں ست پال سنگھ صبح سویرے سب سے پہلے جو چیز دیکھتے ہیں وہ ہے ان کے گھر میں چمکتا ہوا ٹریکٹر جس کے پہیوں پر مٹی کا کوئی دھبہ تک نظر نہیں آتا۔ ٹریکٹر کو علاقے میں کسانوں کی شان تصور کیا جاتا ہے اور ہر رات گیراج میں کھڑا کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح دھویا اور صاف کیا جاتا ہے۔ یہ امارت کی نشانی بھی ہے جس نے اس زرعی علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ست پال سنگھ کے صحن میں آدھی درجن کے قریب بھینسیں مکئی کے چارے کی جگالی کر رہی تھیں جو کہ ان ہی کے صحن میں ایک طرف لگی مشین پر بنایا گیا تھا۔ لیکن بظاہر اس پرسکون صورت حال کے پس منظر میں بھارت کےصوبے پنجاب میں رائج زرعی طور طریقوں پر بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن کے اثرات پوری دنیا میں اجناس کی فراہمی پر پڑ رہے ہیں۔ ست پال سنگھ کے والد کی انیس سو بانوے میں کینسر کے مرض میں وفات سے پہلے کسی نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ انیس سو ستر کی دہائی میں زرعی شعبہ میں انقلاب برپا کرنے والی ٹیکنالوجی کے مضر اثرت بھی ہو سکتے ہیں۔
بیجوں کے نئے نمونے، کیڑے مار کیمائی ادوایات اور مصنوعی کھاد کے استعمال سے پیدوار میں کئی گناہ اضافہ ہو گیا۔ اور اسے ’گرین ریولوشن‘ یا سبزانقلاب کا نام دیا گیا۔ لیکن آج بھینسوں کو جو چارہ ڈالا جاتا ہے ہے اور جو دودھ وہ دیتی ہیں، یا جو پانی دوسرے جانور اور گاؤں والے پیتے ہیں ان میں کیڑے مار ادویات کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ ایک کامیاب کاشت کار ہونے کے ناطے ست پال فارغ اوقات میں گاؤں میں صحت عامہ میں رضا کارانہ طور پر کام بھی کرتے ہیں۔ وہ مجھے گاؤں میں چند کاشت کاروں کے پاس لے گئے۔ جنہوں نے دیہاتوں میں کیڑے مار ادوایات کے غیر ضروری استعمال سے پیدا ہونے والے امراض کے بارے میں بات کی جو ان کے مطابق اموات کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ یہاں مسئلہ دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح سے یہ ہے کہ نئے بیجوں سے مستقل بنیادوں پر زیادہ پیداوار حاصل نہیں کی جا سکتی اور فصلوں کو لگنے والے کیڑے ادوایات سے بچنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ کینسر میں مبتلا ایک عمر رسیدہ شخص نے مجھے بتایا کہ فصلوں کو کیڑے سے بچانے کے لیے انہیں چوبیس گھنٹے میں کئی مرتبہ کیرٹے مار ادوایات کا سپرے کرنا پڑتا ہے۔ کیڑے مار تمام اداویات کی ہدایات میں یہ درج ہوتا ہے کہ ان ادوایات کا استعمال منہ پر کپڑا باندھے بغیر نہ کیا جائے۔ لیکن کاشت کار یہاں ان احتیاطی تدابیر کی پرواہ کیئے بغیر فصلوں پر ضرورت سے کہیں زیادہ مقدار میں ادویات کا سپرے کرتے ہیں۔ کینسر کا مرض ہمیشہ سے ہی تشویش کا باعت رہا ہے لیکن پنجاب میں قائم پٹیالہ یونیورسٹی میں حال ہی میں ہونے والے ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بڑھاپا، شراب اور سیگریٹ نوشی کینسر کا باعث نہیں بلکہ اس کی وجہ کیڑے مار ادویات کا استعمال ہے۔ کاشت کاروں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جن سائنسدانوں نے انہیں انیس سو ستر کی دہائی میں پیداوار میں اضافے کے طریقے سکھائے تھے اب کچھ نیا طریقہ دریافت کریں۔
انہیں علم ہو گیا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ کیوں اب انہیں زیادہ سپرے کرنے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنا پر مہنگی ہوتی ہوئی مصنوعی کھاد کے استعمال کے باوجود زیادہ پیداوار حاصل نہیں ہو رہی۔ کس نے کاشت کاری کے جدید طریقے ’آرگینک فارمنگ‘ کے بارے میں نہیں سنا ہے۔ ہمسایہ ملک پاکستان میں روزآنہ مقامی ٹی وی چینل آٹے کی ملوں کے مالکان اور کاشت کاروں کے انٹرویو نشر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں خبریں بھی معمول بن گئی ہیں۔ پولیس ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ حکومت نے راش کارڈ جاری کر دیئے ہیں اور عالمی ادارہ خوارک کے مطابق سات کروڑ افراد یعنی پاکستان کی آبادی کا نصف خوارک کی قلت کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو سونامی قرار دیتا ہے جن کا اثر دنیا کہ غریب ترین ملکوں پر پڑ رہا ہے اور پاکستان سے زیادہ بہت سے غریب ملک ہیں۔ خوراک کی قلت کے سیاسی اثرات پاکستان کے شمالی مغربی سرحدی صوبے پر نمایاں ہونے شروع ہوں گئے ہیں جہاں طالبان اور القاعدہ کے لیے حمایت پائی جاتی ہے۔ سرحد کے دوسری طرف افغانستان کے حالیہ دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ کابل کی سڑکوں پر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار امریکہ کی قابض فوجوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، قحط سالی، زیادہ کاشت کاری کے باعت پیدوار میں کمی، بھارت اور چین میں خوراک کی بڑھتی ہوئی مانگ اور بائیو فیول کی کاشت کی وجہ سے ارزاں نرخوں پر خوراک کی فراہمی ماضی کا قصہ بن جائے گی۔ اس کا ایک حل جس کے بارے میں آ جکل بات ہو رہی ہے وہ ہے کاشت کاروں کو براہراست امدادی رقوم کی ادائیگی۔ گزشتہ چند سالوں تک ملاوئی خوراک کی امداد کا محتاج تھا۔ لیکن دو ہزار دو میں مجھے یاد ہے میں پپدل گاؤں گاؤں پھرا تھا۔ یہاں پر مکئی کے پودے بڑھ نہیں پا رہے تھے۔ ایک گاؤں میں بچوں نے درخت پر چڑھ کر مجھے ایک سخت نا ہضم ہونے والا پھل دکھایا جو انہیں کھانے کے لیے میسر تھا۔ اس وقت ملاوئی جنوبی افریقہ کے خوراک کی امداد حاصل کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل تھا۔ اس نے کاشت کاروں کو سستی کھاد فراہم کرنے کی ؤائچر سکیم شروع کی تو امداد مہیا کرنے والے ملکوں نے اس کی مخالفت کی۔ کرپشن کی وجہ سے اور روائتی اقتصادیات پر یقین رکھنے والے امدادی رقوم دینے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن اب امداد دینے والے ملکوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ اس سکیم کی حمایت کرتے ہیں۔ ملاوئی نے اپنی خوراک کی قلت پر قابو پا لیا ہے اور وہ اپنے لیے بھی اور برآمد کرنے کے لیے بھی خوارک پیدا کر رہا ہے۔ یہ خوراک پیدا کرنے والے دوسرے ملکوں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||