خوراک کا بحران، نئی ٹاسک فورس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے خوراک کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ تنظیم کی پہلی ترجیح دنیا ان لاکھوں افراد کو خوراک مہیا کرنا ہے جو اس وقت خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بھوکے ہیں۔ اس ٹاسک فورس کے سیکرٹری جنرل بان کی مون خود ہیں اور اس میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی بینک کے سربراہان شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس وقت دس کروڑ لوگ خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔ اس سلسلے میں خوراک کے عالمی پروگرام نے کہا ہے کہ اس سال اسے 755 ملین ڈالر کی اضافی رقم درکار ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے دار الحکومت برن میں اقوام متحدہ کے اداروں کے سربراہان کے ایک اجلاس کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ خوراک کا عالمی بحران اب سنگین ہو چکا ہے۔ چاول، آٹا، تیل اور چینی جیسے غذائی اجناس کی قیمتیں ایک سال میں دگنی ہوئی ہیں۔ برن میں بی بی سی کی نامہ نگار اموجن فولکس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ طویل دورانیے میں وہ ان زرعی مرعات کو ختم کرائے جس سے تجارت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ ساتھ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے خوراک کی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان سے بھی نمٹنا چاہتے ہیں۔ برن میں ہونے والے اس اجلاس میں عالمی اداراۂ تجارت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیش (ڈبلیو ٹی او) کے سربراہ رابرٹ زیلِک اور عالمی بینک (ورلڈ بینک) کے سربراہ پسکال لامی بھی شریک تھے۔ مسٹر زیلِک نے دنیا کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ غذائی ذخائر کو محفوظ رکھنے کے غرض سے خوراک کی برامد پر پابندی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ذخیرہ اندوزی کو فروغ ملتا ہے، قیمتیں بڑھتی ہیں اور وہ غریب لوگ بری طرح متاثر ہوتے ہیں جو پہلے ہی مشکل سے ایک وقت کا کھانا کھا سکتے ہیں۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے ایک بیان میں عالمی بینک نے کہا ہے کہ وہ افریقہ میں ززعات کے لیے اپنے قرضوں کو دگنا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ غریب ممالک کے لیے لچکدار اور جلد فراہم کیے جانے والے قرضوں کے نظام پر غور کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں خوراک کی قیمتوں پر مشترکہ پالیسی24 April, 2008 | آس پاس ’خوراک کا بحران تیز ہو رہا ہے‘22 April, 2008 | آس پاس خوراک کے عالمی بحران کا خطرہ 13 April, 2008 | آس پاس ’لاکھوں افراد کی فاقہ کشی کا خطرہ‘13 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||