غذائي بحران پر اقوام متحدہ کی مدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نےغذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کو تقریباً سوا ارب امریکی ڈالر کی اضافی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان روم میں غذائی اشیاء کے بحران پر ہونی والی کانفرنس میں کیا گیا ہے۔ اقوام متحد میں عالمی فوڈ پروگرام کے سربراہ جوسیٹ شیران نے روم میں جاری کانفرنس میں شرکت کرنے والے مندوبین کے نام تحریری پیغام میں کہا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے تو پھر زبردست غربت کی مار جھیلنے والے افراد کی تعداد دوگنی ہوجائےگی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ عالمی برادری اس چیلنج سے نمٹنے میں ناکامیابی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی نظام کو اس طرح ترتیب دینے کی ضرورت ہے کہ وہ غذائی اشیاء مناسب قیمتوں پر دستیاب کرانے میں موثر ثابت ہوسکیں۔ کانفرنس میں شریک سینیگل کے صدر عبدالحئی وادے نے کہا ہے انہیں اس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی مدد سے افریقہ اپنے مسائل خود حل کر سکتا ہے۔ گزشتہ روز کانفرنس میں بان کی مون نے بتایا تھا کہ دو ہزار تیس تک مانگ کو پورا کرنے کے لیے غذائی اشیاء کی پیداوار میں پچاس فیصد کا اضافہ کرنا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے برآمدات پر لگي پابندیاں اور درآمدات پر عائد ٹیکسوں کو کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب اناج کی قیمتیں گزشتہ تیس برس کے مقابلے سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ اناج کی کمی اور مہنگائی کے سبب کئی ممالک میں فسادات تک برپا ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ’ ہم سب کو خطرات کا پوری طرح پتا ہے تاہم یہ بحران ہمیں ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف ہمیں غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف مستقبل کے لیے عالمی سطح پر اجناس کی سکیورٹی کو بہتر کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔‘ بان کی مون نے کہا ’ بعض ممالک نے برآمدات پر پابندی لگا کر اور بعض نے قیمتوں پر قابو پانے کے قانون بنا کر کارروائی کی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ ’آّپ کا پڑوسی بھکاری رہے‘ اب ایسی غذائی اشیاء کی پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اس سے صرف بازار خراب ہوتے ہیں اور قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں‘۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ اشیاء خوردنی کی بڑھتی قیمتوں سے جو عدم استحکام پیدا ہوا اس سے افغانستان، لائبیریا اور ہیٹی میں حاصل کی گئی ترقی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے لائیبریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے لوگ چاول تھیلے کے حساب سے خریدتے تھے جبکہ اب کپ کے حساب خرید رہے ہیں۔ اس موقع پر برازيل کے صدر لولا ڈی سلوا نے اپنے ملک میں بائیوفیول پیدا کرنے کے فیصلے کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ ایتھنول کی پیداوار کو غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے جوڑنا ایک قسم کی’توہین ‘ ہے۔ ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ بازار میں تیل کافی مقدار میں ہے اور قیمتوں میں اضافہ ’مصنوعی‘ ہے۔ روم میں ہونے والی اس کانفرنس کا اہتمام اقوام متحدہ کے غذاء اور زراعت کے ادارے ( فاؤ) نے کیا ہے۔ اس ادارے نے صنعتی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ اگر پیداوار میں اضافہ نہیں کیا گيا اور تمام رکاوٹوں کو ختم کر کے اناج وہاں نہیں بھیجا گيا جہاں اس کی سخت ضرورت ہے تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ حالیہ غذائی بحران سے دنیا کے تقریباً دس کروڑ لوگ بھوک سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایک پہلو جس پر اس کانفرنس میں زیادہ اختلاف کا امکان ہے وہ ہے بائیو فیول کا مسئلہ۔گزشتہ برس مکئی کی پیداوار کا بیشتر حصہ ایتھنول بنانے میں صرف ہوا نہ کہ کھانے میں۔ | اسی بارے میں غذائی بحران،اقوام متحدہ کےاقدامات 03 June, 2008 | آس پاس سنگین غذائی بحران کا خطرہ03 May, 2008 | آس پاس بش کی کروڑوں ڈالر امداد کی پیشکش02 May, 2008 | آس پاس خوراک کی قیمتوں پر مشترکہ پالیسی24 April, 2008 | آس پاس ’خوراک کا بحران تیز ہو رہا ہے‘22 April, 2008 | آس پاس خوراک کے عالمی بحران کا خطرہ 13 April, 2008 | آس پاس ’لاکھوں افراد کی فاقہ کشی کا خطرہ‘13 April, 2008 | آس پاس ’38 ممالک میں خوراک کا بحران‘18 December, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||