BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 08:48 GMT 13:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غذائی بحران،اقوام متحدہ کےاقدامات
فائل فوٹو
غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں پر کئی ممالک میں فسادات تک ہوئے ہیں
اقوام متحد کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اقوامِ عالم پر زور دیا ہے کہ غذائی بحران پر قابو پانے کے لیے’ زراعت کے احیاء کے تاریخی موقع‘ کو ہاتھ سے نہ نکلنے دیا جائے۔

عالمی غذائی بحران پر روم میں جاری اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں بان کی مون نے بتایا ہے کہ دو ہزار تیس تک مانگ کو پورا کرنے کے لیے غذائی اشیاء کی پیداوار میں پچاس فیصد کا اضافہ کرنا پڑےگا۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے برآمدات پر لگي پابندیاں اور درآمدات پر عائد ٹیکسز کو کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب اناج کی قیمتیں گزشتہ تیس برس کے مقابلے سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ اناج کی کمی اور مہنگائی کے سبب کئی ممالک میں فسادات تک برپا ہوئےہیں۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ’ ہم سب کو خطرات کا پوری طرح پتا ہے تاہم یہ بحران ہمیں ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ایک طرف ہمیں غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف مستقبل کے لیے عالمی سطح پر اجناس کی سکیورٹی کو بہتر کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔‘

 بعض ممالک نے برآمدات پر پابندی لگا کر اور بعض نے قیمتوں پر قابو پانے کے قانون بناکر کارروائی کی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ آّپ کا پڑوسی بھکاری ر ہے اب ایسی غذائی اشیاء کی پالیسیز نہیں چل سکتیں، اس سے تو بازار خراب ہوتے ہیں اور قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
اقوام متحد کے سیکرٹری جنرل بان کی مون

بان کی مون نے کہا ’ بعض ممالک نے برآمدات پر پابندی لگا کر اور بعض نے قیمتوں پر قابو پانے کے قانون بنا کر کارروائی کی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ آّپ کا پڑوسی بھکاری رہے اب ایسی غذائی اشیاء کی پالیسیز نہیں چل سکتیں، اس سے صرف بازار خراب ہوتے ہیں اور قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں‘۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ اشیاء خوردنی کی بڑھتی قیمتوں سے جو عدم استحکام پیدا ہوا اس سے افغانستان، لائبیریا اور ہیٹی میں حاصل کی گئی ترقی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ انہوں نے لائیبریا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پہلے لوگ چاول تھیلے کے حساب سے خریدتے تھے جبکہ اب کپ کے حساب خرید رہے ہیں۔

روم میں ہونے والی اس کانفرنس کا اہتمام اقوام متحدہ کے غذاء اور زراعت کے ادارے ( فاؤ) نے کیا ہے۔ اس ادارے نے صنعتی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ اگر پیدا وار میں اضافہ نہیں کیا گيا اور تمام رکاوٹوں کو ختم کر کے اناج وہاں نہیں بھیجا گيا جہاں اس کی سخت ضرورت ہے تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔

فاؤ نے پیداوار میں کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر تقریبا پونے دو ارب امریکی ڈالر کے عطیات کا مطالبہ کیا ہے۔

حالیہ غذائی بحران سے دنیا کے تقریباً دس کروڑ لوگ بھوک سے متاثر ہوئے ہیں۔
غریب ممالک کو اناج درآمد کرنے کے لیے اس برس چالیس فیصد زیادہ خرچ کرنا پڑا ہے اور ماہرین کے مطابق بعض ممالک کا خرچ تقریبا دوگنا ہوگيا ہے۔

اس موقع پر برازيل کے صدر لولا ڈی سلوا نے اپنے ملک میں بائیوفیول پیدا کرنے کے فیصلے کا یہ کہہ کر دفاع کیا ‏کہ ایتھنول کی پیداوار کو غذائی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں سے جوڑنا ایک قسم کی’توہین ‘ ہے۔

ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ بازار میں تیل کافی مقدار میں ہے اور قیمتوں میں اضافہ ’مصنوعی‘ ہے۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار کرسچن فریزر کا کہنا ہے کہ فاؤ نے عطیہ دینے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کی مدد کے لیے زیادہ توجہ دیں تاکہ وہ کھاد، بیج اور مویشیوں کے چارے کا انتظام کرسکیں۔ فاؤ کا کہنا ہے کہ شعبہ ذراعت میں عدم سرمایہ کاری کو اب نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ایک پہلو جس پر اس کانفرنس میں زیادہ اختلاف کا امکان ہے وہ ہے بائیو فیول کا مسئلہ۔گزشتہ برس مکئی کی پیداوار کا بیشتر حصہ ایتھنول بنانے میں صرف ہوا نہ کہ کھانے میں۔

غذائی اشیاء کے بحران پر قابو پانے کے لیے بان کی مون نے جو ٹاسک فورس تشکیل دیا ہے وہ اڑتیس صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی پیش کرےگی ۔اس رپورٹ میں غذائی بحران کے لیے جو تجاویز پیش کی جائیں گی ان کے نفاذ پر تقریبا پندرہ ارب امریکی ڈالر کا خرچ آنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں فوری اقدامات کے تحت اس بات پر زور دیا جائےگا کہ ٹیکسز میں کمی کی جائے اور غریب کسانوں کو رعایتیں دی جائیں جبکہ دور رس نتائج کے لیے شعبہ زراعت میں سرمایہ کاری کے اضافے پر بات ہو گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد