پینتیس ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صومالیہ کے ساحل کے قریب یوکرین کے ایک بحری مال بردار جہاز پر قبضہ کرنے والے سمندری قزاقوں نے جہاز اور اس کے عملے کو چھوڑنے کے لیے پینتیس ملین ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ اس جہاز پر ٹینک اور گرنیڈ لانچر لدے ہوئے ہیں جو کینیا لے جائے جا رہے تھے۔ سمندری قزاقوں کی جانب سے بات کرنے والے ایک شخص نے جہاز پر سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کے عملے کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ قزاقوں نے ایم وی فائنا پر جمعرات کو اس وقت قبضہ کیا تھا جب وہ کینیا کے بندرگاہ مومباسا کے قریب پہنچ گیا تھا۔ صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں نے ایک درجن سے زیادہ جہازوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس علاقے میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن پہلی مرتبہ اسے عالمی سکیورٹی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ روسی بحریہ کا ایک جہاز جائے وقوعہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے اور امریکہ نے بھی کہا ہے کہ اس کی بھی صورتحال پر نظر ہے۔
اس علاقے میں ماہی گیروں کی کشتیوں، مال بردار جہاز اور دیگر کشتیوں پر حملوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ لیکن فرانس اور امریکہ، اقوام متحدہ کی قرار داد تیار کر رہے ہیں جس سے ان فوجوں کو اختیار ہو گا کہ دوسرے ممالک کی سمندری حدود میں ان قزاقوں کا پیچھا کریں اور حراست میں لیں۔ اس وجہ سے فوجوں کے گشت میں بھی اضافہ ہو گا۔ چند ماہ قبل اطالوی جھنڈے والے تیل بردار جہاز پر اطالوی بحریہ نے حملہ ناکام بنا دیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق صومالی قزاق تیز رفتار کشتیوں پر تیل بردار جہاز کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اطالوی بحریہ نے ان کا راستہ روکا۔ دوسری طرف صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹلینڈ کے فوجیوں نے دبئی کے جہاز پر دھاوا بول کر سات قزاقوں کو گرفتار کیا اور جہاز کے عملے کو رہا کروایا۔ سپین کی ماہی گیر کشتی پر بیس اپریل کو حملے کے بعد سپین نے بھی ایک فریگیٹ بھیجی ہے اور فرانس، امریکہ اور نیٹو سے بھی مدد مانگی ہے۔ صومالیہ پچھلے دو دہائیوں سے مضبوط حکومت کے بغیر ہے اور عبوری حکومت ملک کے بڑے علاقے کو کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے جہاں پر وار لارڈ کی من مانی چل رہی ہے۔ | اسی بارے میں صومالیہ کے خطرناک سمندری قزاق24 April, 2008 | آس پاس اہم صومالی رہنما نے ہتھیار ڈال دیے22 January, 2007 | آس پاس صومالیہ: امریکی حملہ، متعدد ہلاک01 May, 2008 | آس پاس صومالیہ - مشرقی افریقہ کا افغانستان؟03 May, 2008 | آس پاس سترہ ملین افریقی امداد کے منتظر20 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||