BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسبسٹس لدا بحری جہاز انڈیا میں
’بلیو لیڈی‘
ماحولیاتی کارکنان جہاز کے ہندوستان میں داخلے کی مخالفت کر رہے ہیں
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اسبسٹس سے لدے ہوئے نارویجن بحری جہاز ’بلیو لیڈی‘ کو ہندوستان کے سمندر میں آنے کی اجازت دے دی ہے۔

ماہرین کی ایک کمیٹی کےمشورے کی بنیاد پر عدالت نے اس جہاز کو ملک کی مغربی ریاست گجرات کی النگ نامی بندرگاہ تک جانے کی اجازت دی ہے۔ اس بندرگاہ پر جہاز کو توڑنے کا کام ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی نے اس جہاز کے بارے میں یہ مشورہ دیا تھا کہ اسے ہندوستان کے سمندر میں آنے کی اجازت دی جائے اور وہاں پہنچ کر اس کا مزید جائزہ لیا جائے۔ یہ جہاز ’ایس ایس ناروے‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ماحولیاتی کارکنان جہاز کے ہندوستان کی سرحد میں داخلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں ایک بڑی مقدار میں اسبسٹس اور دیگر زہریلے مادے موجود ہیں۔

 عدالت نے یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیا ہے کیونکہ مون سون کی شدید بارشوں سے جہاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ جہاز کے عملے کے لیئے آئندہ دنوں میں کھانے پینے جیسی دیگر بنیادی چیزوں کی کمی ہو سکتی تھی۔
گوپال کرشن

’بین اسبسٹس نیٹ ورک ان انڈیا‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ترجمان گوپال کرشن کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے ميں جہاز کو ہندوستان میں توڑنے کی اجازت نہيں دی ہے بلکہ صرف اپنی بحری حدود میں آنے کی اجازت دی ہے۔

مسٹر کرشن کا کہنا ہے کہ عدالت نے یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیا ہے کیونکہ مون سون کی شدید بارشوں سے جہاز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ جہاز کے عملے کے لیئے آئندہ دنوں میں کھانے پینے جیسی دیگر بنیادی چیزوں کی کمی ہو سکتی تھی۔

جہاز کے عملے میں تیرہ ہندوستانی بھی شامل ہیں اور ترجمان کا یہ کہنا تھا کہ عدالت نے اپنا فیصلہ قانونی پہلوؤں کی بنیاد پر نہيں بلکہ صرف انسانی بنیادوں پر سنایا ہے۔ مسٹر کرشن کہ کہنا تھا کہ’جہاز کے داخلے سے بین الاقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے‘۔ ان کا دعوٰی ہے کہ اس جہاز میں 1200 میٹرک ٹن اسبسٹس موجود ہے جسے صحت کے لیئے مضر مانا جاتا ہے‘۔

اس برس فروری میں فرانس کے ایک جہاز’ کلیمنسو‘ کے ہندوستان میں داخلے کے خلاف زبردست احتجاج کے بعد فرانس نے اسے واپس بلا لیا تھا۔’ کلیمنسو‘ بھی مشرقی ریاست گجرات کے النگ بندرگاہ کی طرف آ رہا تھا جہاں اسے توڑ کر کباڑ میں تبدیل کیا جانا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد