بھارت: جنگی طیاروں کیلیےٹینڈر طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے ایک سو چھبیس جنگی جہاز خریدنے کےلیے بین الاقوامی کمپنیوں سے دفاعی سیکٹر میں دس ارب ڈالر کا ٹینڈر طلب کیا ہے۔ اس ٹینڈر کا اعلان دارالحکومت دلی میں کیا گيا ہے۔ اقتصادی تجزيہ کاروں کا کہنا ہے کہ مگ 29 اور مگ 35 بنانے والی روسی کمپنی اور ایف 18 بنانے والی امریکہ کی ’لوکہیڈ مارٹن اینڈ بوئنگ‘، فرانس کی ’دساؤ‘، سوئیڈن کی’ سابس‘ اور یورو فائٹر کمپنیاں اس ٹینڈر کی بولی میں سب سے آگے رہیں گی۔ اس خریداری کے ساتھ ہندوستان اپنے پرانے جنگی طیارے تبدیل کر سکے گا۔ گزشتہ برسوں میں تربیت کی پروازوں کے دوران جنگی جہازوں کے تباہ ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے جنگی جہازوں کی تعداد کم ہوکر پانچ سو چھہتر ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ہندوستان نے گزشتہ آٹھ برسوں میں جنگی طیارے نہیں خریدے ہیں۔ خریداری کے ضوابط کے مطابق پہلے اٹھارہ جنگی طیارے جہاز بنانے والی کمپنی سے ہندوستان آئیں گے جبکہ باقی طیارے لائسنس کے بعد ہندوستان میں بنائے جائیں گے۔ پہلے آنے والے اٹھارہ طیارے دوہزار بارہ تک فضائيہ میں شامل ہوسکیں گے۔ ہندوستان نے اس سے قبل کبھی کسی امریکی کمپنی سے جنگي جہاز نہیں خریدے لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں آنےوالی بہتری کی وجہ سے اس مرتبہ امریکی جنگی طیارے حاصل کیے جانے کی توقع ہے۔ ہندوستان کو فوجی سازو سامان فراہم کرنے والے ممالک میں روس کو اولیت حاصل رہی ہے لیکن اب ہندوستان اپنے دفاعی ساز وسامان کے لیے روس کے ساتھ ساتھ برطانیہ، اسرائیل اور امریکہ کا رخ کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں ائیرانڈیا 68 نئے جہاز خریدےگا 16 December, 2005 | انڈیا ہندوستان طیارہ بردار جہاز بنائےگا 23 March, 2005 | انڈیا بھارت اور امریکہ میں دفاعی معاہدہ29 June, 2005 | انڈیا دفاعی اخراجات میں 17 فیصد اضافہ08 July, 2004 | انڈیا روس بھارت دفاعی مذاکرات 03 December, 2004 | انڈیا دفاعی بجٹ: 7.8 فیصد اضافہ28 February, 2007 | انڈیا خلائی دفاعی نظام قائم کریں گے: انڈیا29 January, 2007 | انڈیا ائرفورس: جہازوں سے زیادہ پائلٹ20 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||