ہندوستان طیارہ بردار جہاز بنائےگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان جلد ہی طیارہ بردار جہاز بنا نے کی شروعات کرے گا۔ دفاعی شعبے میں ملک کی یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس کے ساتھ ہی ہندوستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہونے لگے گا جنہیں طیارہ بردار جہاز بنا نے کی صلاحیت حاصل ہے۔ ہندوستان مستقل اپنی دفاعی طاقت مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ برسوں سے اس کا خواب تھا کہ وہ طیارہ بردار جہاز خود بنانے کا اہل ہوجائے اسکے خواب کی تعبیر آئندہ گیارہ اپریل کو شروع ہوگی جب طیارہ بردار جہاز’ ایئر ڈیفنس شپ‘ بنانے کے لیے اسٹیل کاٹنے کی ایک تقریب انجام پائیگی۔ کیرالا میں کوچن کی شپ یارڈ میں اسکا افتتاح وزیردفاع پرنب مکھرجی کریں گے۔ بحریہ کے وائس ایڈمرل یشونت پرساد نے اسکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گیارہ اپریل ہندوستان کی تاریخ کا اہم دن ہوگا جب ملک دفاعی صلاحیت و قوت میں ایک قدم مزید آگے بڑھائے گا۔ ایئر کرافٹ کیریئر ’ایئر ڈیفنس شپ‘ بنانے میں اٹلی اور روس ہندوستان کی مدد کر رہے ہیں۔ اطالوی ماہرین نے اسکا ڈیزائن تیار کیا ہے جبکہ روس اسکی فضائی صلاحیت کو نکھارنے کا کام کریگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستانی تکنیک اور اسکی کاریگری پر مبنی اس طیارہ بردار جہاز کی تکمیل میں کافی وقت لگے گا اور دوہزار بارہ تک اسے فوج میں خدمات کے لیے شامل کیا جاسکے گا۔ ہندوستان نے تقریبا دس برس قبل ایئر کرافٹ کیریئر بنانے کا خیال ظاہر کیا تھا لیکن اسےاس کے لیے اچھی اسٹیل کی تلاش تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گیارہ اپریل کو اسٹیل کٹنگ تقریب کے بعد اسکی تعمیر کا کام رکنا نہیں چاہیے ورنہ اس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ بھارت کے پاس اس وقت صرف ایک ایئر کرافٹ کريئر استعمال کے لائق ہے۔ اس نے برطانیہ سے دواستعمال شدہ ایئر کرافٹ کريئر خریدے تھے جن میں سے ایک بیکار ہوچکا ہے۔ ہندوستان روسی ساخت کا ایک اور ایئر کرافٹ کریئر دوہزار آٹھ میں فوج میں شامل کریگا۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس ہی دنیا کے ایسے ملک ہیں جو اس وقت طیارہ بردار جہاز بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ روس کو بھی اس میں مہارت حاصل ہے لیکن اس نے ماضی میں دو ایئر کرافٹ کریئر بنانے کے بعد مزید پیش رفت نہیں کی ہے۔ تازہ کوششوں کے بعد ہندوستان بھی دنیا کی اس ایلیٹ کلاس میں شامل ہوگیا ہے جنہیں طیارہ بردار جہاز بنانے کی صلاحیت حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||