دفاعی اخراجات میں 17 فیصد اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگلے چھ ماہ کے لئے بھارت کی نئی حکومت نے بجٹ پیش کر دیا ہے جس کے بارے کہا جا رہا ہے کہ اس میں غریب اور کمزور طبقے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ بجٹ آج بھارت کے وزیر خزانہ نے پیش کیا۔مسٹر چدامبرم نے کہا ہے کہ آئندہ دوہزار نو تک مالیاتی خسارے کو پوری طرح ختم کرنا ان کا ہدف ہے اور شرح ترقی کو سات سے آٹھ فیصد تک لے جایا جائے۔ حکومت نے منصوبہ بندی اخراجات کے لیے رقم میں اضافہ کیاہے اور عام بجٹ میں یہ رقم 1،45،540 کروڑ روپے ہے۔ پی چدامبرم نے اپنے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں 17 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اسے 77،000 کروڑ کردیا ہے جو پہلے صرف 65،300 کروڑ تھا۔ تعلیم کی فراہمی کےلیے دو فیصد اضافی ٹیکس نافذ کیا جائے گا۔ اورحکومت پورے ملک کی تقریبا پانچ سو آئی ٹی انسٹی ٹیوٹس کو مزید بہتر بنایاجائے گا۔ کمپیوٹر کی درآمدات پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا۔ پانی کے لیے حکومت نے 30ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں سے ایک پروجیکٹ کے تحت پورے ملک میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے لیے ضروری اقدامات کیے جایئں گے۔ مرکزی حکومت نے پانی کا انتظام پنچائتوں کو سونپنے کا فیصلہ کیاہے ۔ حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے کئی طرح کی رعایتوں کا اعلان کیا ہے اور کسانوں کے لیے بیمہ کی اسکیم کا جہاں وعدہ کیا ہے وہیں زراعت میں کام آنے والی کئی مشینوں پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایڈز جیسی مہلک بیماری سے روک تھام کے لیے حکومت نے دوسو انسٹھ کروڑ روپے مختص کیے ہیں اسکے علاوہ کمزور اور غریب طبقے کی صحت کے لیے کئی بیمہ اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے حکومت نے صحت سے متعلق درآمد کی جانے والی بہت سی مشینوں سے کسٹم ڈیوٹی پوری طرح سے ختم کر دی ہے تاکہ علاج سستا ہوسکے۔ بیمہ کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 26 فیصد سے بڑھا کر 49 فیصد کی گئی ہے۔ جبکہ ٹیلی کام سیکٹر میں 49 فیصد سے بڑھاکر غیرملکی سرمایہ کاری 74 فیصد کی گئی ہے۔ اسی طرح شہری ہوابازی کے شعبے میں بھی 40 فیصد سے بڑھا کر سرمایہ کاری 49 فیصد کر دی گئی ہے۔ ٹیکس کی نئی شرح کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے سالانہ ایک لاکھ روپے تک کہ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہ لگانے کی بات کی ہے۔ غریبوں کے لیے نۓ گھروں کی تعمیر اور دیہی علاقوں میں روزگار فراہم کرنے کی کئی نئی اسکیموں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ریاست بہار کے لیے تین ہزار دوسو پچیس کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ شمال مشرقی ریاستوں بشمول سکم کے لیے 5،832 کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئی دہلی میں کئی صنعت کاروں نے اس بجٹ کو سراہا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے کہا ہے بجٹ عوام کی امیدوں کے مطابق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ یہ بجٹ آئندہ چھ ماہ کے لیے ہے جبکہ آئندہ فروری میں نئے سال کا بجٹ پیش کیا جائےگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||