ائرفورس: جہازوں سے زیادہ پائلٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین ائرفورس کے بیس فیصد پائلٹ محض اس لیئے جہاز اڑانے کی بجائے ڈیسک کا کام کرتے ہیں کہ ائر فورس کے پاس پائلٹ زیادہ ہیں لیکن جہاز نہیں ہیں۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ انڈین ائرفورس کے پچیس سو پائلٹ ہیں جن میں سے ایک تہائی کو زمینی کام اور انتظامی فرائض ادا کرنے کے لیئے کہا گیا ہے۔ ان میں سے چار سو پچاس ایسے پائلٹ جو فٹ بھی ہیں اور تربیت یافتہ بھی صرف اس لیئے ایسے کام کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اڑانے کے لیئے جہاز نہیں ہیں۔ انڈین فضائیہ کے پائلٹوں نے حالیہ مہینوں میں کام چھوڑنے کی اجازت بھی مانگی مگر انہیں اجازت نہیں ملی۔ تاہم سرکاری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ انڈین ائر فورس کے پاس سات سو نوے جہاز ہیں جن میں سے تین سو چالیس لڑاکا طیارے ہیں۔ دو ہزار دو تک انڈین فضائیہ کے جہازوں میں چالیس فیصد تک کی کمی ہو جائے گی۔ فضائیہ میں اس وقت چونتیس سکواڈرن ہیں جن کی تعداد وہ دو ہزار تیرہ تک اٹھائیس تک لانا چاہتی ہے۔ انڈین فضائیہ نے جن پائلٹوں کو زمینی کام یا انتظامی امور سونپے ہیں ان میں سے کچھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا انہیں جو کام دیئے گئے ہیں اس سے فضائیہ کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوتا کہ پائلٹوں کو اس لئے چھوڑا نہیں جا سکتا کہ اس سے ان کی کمی ہو جائے گی۔ پندرہ سال تک فضائیہ میں کام کرنے والے ایک پائلٹ کا کہنا ہے: ’حکام جو چاہے کہتے رہیں، حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک پائلٹوں کا سوال ہے فضائیہ کے پاس پہلے ہی عملہ ضرورت سے زیادہ ہے۔‘ | اسی بارے میں انڈیا: فضائیہ سے ’مِگ 25‘ ریٹائر09 April, 2006 | انڈیا بھارتی فضائیہ کے اعلیٰ افسر مستعفی19.03.2002 | صفحۂ اول بھارتی فضائیہ کے دو جیگوار لاپتہ03 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||