بلیو لیڈی کو اجازت، ماہرین مخالف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے پرانے بحری جہاز بلیو لیڈی کو توڑنے کے لیئے ہندوستان لانے کی اجازت مل گئی ہے مگر ماہرین اسے یہاں لائے جانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جہاز پر زہریلا مادہ لدا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کیئے جانے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایک خصوصی کمیٹی نے جہاز کے جائزے کے بعد اسے گجرات کی بندرگاہ پر لانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پرانے جہاز کو النگ بندرگاہ میں کباڑ میں تبدیل کیا جا نا ہے۔ یہ بندرگاہ در اصل پرانے جہازوں کی کباڑ گاہ ہے۔ بین الاقوام تنظیم گرین پیس سمیت دیگر ماحولیاتی تنظيموں کا کہنا ہے کہ بلیو لیڈی پر بڑی مقدار میں اسبسٹس او ردیگر ایسے کیمیاوی مادے موجود ہیں جو ان مزدوروں کی صحت کے لیئے نقصاندہ ثابت ہوں گے جو جہاز کو توڑنے کے کام میں حصہ لیں گے۔ گرین پیس کے ترجمان راماپتی کا کہنا ہے ’ اگر بحری جہاز کو آنے کی اجازت دے دی گئی ہے تو یہ غیر قانونی ہے کیوں کہ جہاز پر لدے مادے کی مخالفت ماہرین کے ذریعہ گہری چھان بین کے بعد ہی کی جا سکتی ہے‘۔اور بقول ان کے اس میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ ماحولیاتی کارکنان کے مطابق اس جہاز میں 1200 میٹرک ٹن اسبسٹس ہے جو بقول ان کے صحت کے لیئے مضر مانا جاتا ہے۔ اس برس فروری میں فرانس کے ایک جہاز’ کلیمنسو‘ کے ہندوستان میں داخلہ کے خلاف زبردست احتجاج کے بعد فرانس نے اسے واپس بلا لیا تھا۔’ کلیمنسو‘ بھی مشرقی ریاست گجرات کے النگ بندرگاہ کی طرف آ رہا تھا جہاں اسے توڑ کر کباڑ میں تبدیل کیا جانا تھا۔ اس جہاز کے بارے میں بھی ماحولیاتی تنظیموں نے یہ الزام لگایا تھا کہ اس پر مضر مادے موجود ہیں۔ | اسی بارے میں ’ کلیمنسو بھارت نہیں آسکتا‘16 January, 2006 | انڈیا ’کلیمنسو‘ کے داخلے پر پابندی13 February, 2006 | انڈیا فرانسیسی حکومت کا ’زہریلا درد سر‘15 February, 2006 | انڈیا اسبسٹس لدا بحری جہاز انڈیا میں05 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||