BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2008, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اڑیسہ اور کرناٹک پر مرکز کی نظر
اڑیسہ میں گرجہ گھر پر حملہ
اڑیسہ میں کم از کم 70 گرجا گھروں کو جلایا گیا تھا
ہندوستان کی مرکزی حکومت اڑیسہ اور کرناٹک کی ریاستوں کے خلاف دفعہ 355 نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ دفعہ 355 کے تحت مرکزی حکومت کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر سکے۔

اڑیسہ اور کرناٹک میں مرکزی حکومت کے اقدام کی وجہ وہاں عیسائیوں پر ہونے والے حملے ہیں۔

اڑیسہ میں تئیس اگست کے بعد سے مسلسل عیسائیوں اور گرجا گھروں پر حملے ہو رہے ہیں اور وہاں اس دوران کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں لوگوں کو گھر چھوڑ کر جانا پڑا ہے۔ اسی طرح کرناٹک میں پچھلے ہفتے سے گرجا گھروں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

مرکزی حکومت نے جمعرات کو دونوں ریاستوں کے خلاف دفعہ 355 کے تحت کارروائی کرنے پر غور کیا اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ شری پرکاش جائسوال نےصحافیوں کے ساتھ بات چیت میں حکومت کے اس قدام کی تصدیق کی ہے۔

ان دونوں ریاستوں میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں ہے۔

کرناٹک میں حال ہی میں بی جے پی اقتدار میں آئی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں بی جے پی کی پہلی جیت ہے

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان آئین کی تین دفعات بحث کا موضوع رہی ہیں۔ ان میں سے ایک دفعہ 352 ہے جس کے تحت مرکزی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو کسی بھی ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کر سکتی ہے۔

جبکہ دفع 356 کے تحت اگر کوئی ریاستی حکومت حالات سمبھالنے میں ناکام نظر آتی ہے تو اس ریاستی حکومت کو مرکزی حکومت برخاست کر کے وہاں صدر راج نافذ کر سکتی ہے۔

کئی سیاسی پارٹیاں بشمول کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی ان دفعات کے اطلاق کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔

سب سے زیادہ مرتبہ دفع 356 کو جھیلنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے گزشتہ برس نندی گرام میں ہونے والے تشدد کے بعد مغربی بنگال ميں دفعہ 355 نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قومی اقلیتی کمیشن سے مطالبہ ممبئی فسادات 1992ء
کرشنا کمیشن سفارشات پرعمل درآمد کا مطالبہ
بھارتی مسلمانبھارتی مسلمان کتنے؟
یو پی میں مسلم ’اقلیت‘ نہیں: ہائی کورٹ
گجرات فسادات
’چار سال بعد بھی پانچ ہزار خاندان بے گھر ہیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد