اڑیسہ میں ہندو اور عیسائیوں میں فساد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست اڑیسہ میں گزشتہ ماہ ہونے والے مذہبی فسادات میں متاثر ہونے والے ہزاروں خاندان ابھی تک بے گھر اور امداد کے منتظر ہیں۔ اڑیسہ کے ضلع کنڈامل میں نچلی ذات کے دلت جو مذہب تبدیل کرکے عیسائی ہو گئے ہیں کا کہنا ہے کہ انہیں ہندو انتہا پسند اس لیے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ انہوں نے مذہب تبدیل کر لیا اور اس علاقے میں چرچ کی سرگرمیوں کو بھی بند کرنا چاہتے ہیں۔ دلتوں سے عیسائی ہونے والوں کے اس الزام کی ہندو گروہوں نے تردید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ تشدد کے ان واقعات کا تعلق مقامی مسائل سے ہے اور ان کا ان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس علاقوں میں تشدد کے واقعات کے بعد سے اب تک رات کا کرفیو نافذ ہے اور ان علاقوں تک غیر ملکی صحافیوں کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ ایک چرچ کے پادری کا کہنا تھا کہ وہ مٹی کا تیل لے کر آئے اور جو چیز بھی ان کے ہاتھ آئی اسے چرچ کے درمیان میں رکھ کر آگ لگا دی۔ اس علاقے میں جو جنگلات سے گھرا ہوا ہے اس طرح کے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔ گرجا گھروں کو آگے لگا دی جاتی ہے گھروں کو گرا دیا جاتا ہے اور لوگ جنگلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ سال کرسمس کے موقعے پر ہونے والے یہ فسادات اب تھم گئے ہیں لیکن لوگوں کی حالت زار ابھی بھی دگرگوں ہے۔ بہت سے لوگ بے سروسامانی کے عالم میں اپنے جلے ہوئے گھروں میں رہ رہے ہیں۔ اس تصادم میں عیسائی کی ہندو سے اور قبائلیوں کی غیر قبائلیوں سے لڑائی ہو رہی ہے۔ مسیحی برادری اس ساری صورت حال کا ذمہ دار ہندوؤں کے ایک مذہبی پیشوا لکانندنا سارسواتی کی متعصبانہ اور زہرآلودہ تقاریر کو ٹھہراتی ہے۔ مقامی چرچ کے پادری راوی شماسندر تشدد کے ان واقعات پر انتہائی رنجیدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سارسواتی عیسائیت کے خلاف اور پادریوں کے خلاف تقریریں کرتا ہے۔ ہندو مقامی عیسائیوں کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی طرف سے جو ناجائز مطالبات کیئے جا رہے اس وجہ سے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مقامی عیسائی نچلی ذات کے ہندوؤں اور قبائلیوں کو تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں دیئے جانے والےکوٹہ میں حصہ مانگ رہے ہیں۔ ہندو انتہا پسندوں کے ترجمان ایک مقامی اخبار کے مدیر جگابندو مسرا کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے اور یہ خالصتاً سماجی مسئلہ ہے۔
میں جب جگابندو مسرا سے ملنے ان کے دفتر پہنچا تو میز پر ان کے تازہ شمار کی ایک کاپی پڑی تھی جس کے سرورق پر عیسائیوں کی طرف سے ہندوؤں پر حملے کی خبر تھی اور اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عیسائیوں نے سارسوتی کو حملہ کرکے شدید زخمی کر دیا۔ اس خبر کے نتیجے میں عیسائیوں کے خلاف بدترین تشدد ہوا اوریہ خبر بعد میں جھوٹی ثابت ہوئی۔ تشدد کی اس لہر میں کوئی بھی پیچھے نہیں رہا۔ ابتدائی طور پر گرجا گھروں، عیسائیوں کے کاروبار اور گھروں پر حملے کے بعد عیسائیوں نے بھی جوابی کارروائیاں کئیں۔ گڈاپور کے گاؤں میں ہندوؤں نے بتایا کہ کسی طرح مسلح عیسائی قبائلیوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کے گھروں اور دکانوں کو جلا دیا اور انہیں جنگلوں کی طرف دھکیل دیا۔ عارضی پناہ گاہوں اور جلے ہوئے گھروں میں رہنے والوں کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے دی جانے والی امداد کافی نہیں ہے۔
بی جے پی کی صوبائی حکومت کے وزراء نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے وعدے بھی کیئے ہیں لیکن متاثریں ابھی تک امداد کے منتظر ہیں۔ چرچ اور غیر سرکاری تنظیموں کو امداد مہیا کرنے سے سرکاری طور پر روک دیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر پابندی عائد کرنے کا یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ ایک فرقے کو امداد مہیا کرنے سے دوسرے میں غصے بڑھے گا۔ چرچ اور امدادی تنظیمیں جو امداد مہیا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں اس سارے مسئلے میں بہت سے دیگر عوامل بھی کارفرما نظر آتے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم کے ایک کارکن کیلاش چندرا دندپات کا کہنا تھا کہ مذہب کے نام پر ہونے والے ان فسادات کے پیچھے سیاسی اور اقتصادی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کا ہندوؤں قوم پرستوں سے گہرے تعلقات ہیں اور ایک عرصے تک ان کا علاقے پر پورا کنٹرول تھا۔ یہ قبائلیوں کو سود پر قرضے فراہم کرتے تھے اور پھر قرضے دار کو اپنی اجناس ساہوکاروں کی طرف سے طے کردہ نرخ پر فروخت کرنا پڑتی تھیں۔ دندپات کا کہنا تھا کہ بھارت میں اب بھی یہ استحصالی نظام وسیع پیمانے پر رائج ہے جس میں ایک خاندان کئی نسلوں تک ساہوکاروں کے چنگل میں پھنسا رہتا ہے۔ | اسی بارے میں بریت کے باوجود قید پر معاوضہ21 August, 2007 | انڈیا اڑیسہ میں ہیضہ:175 ہلاک05 September, 2007 | انڈیا اڑیسہ میں اموات کی وجوہ پر تنازع06 September, 2007 | انڈیا اڑیسہ میں چرچوں پر حملے، کرفیو26 December, 2007 | انڈیا اڑیسہ: تشدد اور چرچ پرحملے جاری27 December, 2007 | انڈیا اڑیسہ تشدد میں نکسلی بھی شامل31 December, 2007 | انڈیا جھارکھنڈ: چھ ماؤ نواز باغی ہلاک02 January, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||