BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 September, 2007, 18:54 GMT 23:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اڑیسہ میں ہیضہ:175 ہلاک

اُڑیسہ میں ہیضے کے مریض
کئی علاقوں میں ابھی تک دوائیاں بھی نہیں پہنچ سکیں
ہندوستان کی ریاست اڑیسہ میں ہیضہ پھیلنے سے حکومتی اعدادو شمار کے مطابق ایک سو پچھتر سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ غیر سرکاری اطلاعات میں یہ تعداد ڈھائی سو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

اڑیسہ سےایک مقامی نامہ نگار سندیپ ساہو نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کیےگئے اعدادو شمار کے مطابق ہیضہ سے متاثرہ تین اضلاع میں اب بھی پانچ ہزار سے زیادہ افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بیماری نے ابھی وبا کی شکل اختیار نہیں کی ہے لیکن علاقے میں امدادی کام کرنے والی غیر سرکاری نتظیموں نے اسے پوری طرح سے وباء قرار دیا ہے۔

گزشتہ مہینے کی بیس تاریخ سے شروع ہونے والی اس بیماری سے ریاست کے رائےگڑھ ، کوراپٹ اور کالاہانڈی جیسے قبائلی اضلاع متاثر ہوئےہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گندے پانی و خوراک کے سبب ریاست کے پسماندہ علاقوں میں یہ وباء پھیلی ہے۔ متاثرہ علاقوں ميں طبی ماہرین کی ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق وباء کو دیکھتے ہوئے طبی ماہرین کی تعداد کافی کم ہے۔

ریاست کے محمکہ صحت کی اہلکار ڈاکٹر اوشا پٹنائک جو اس وقت رائےگڑھ کےدورے پر ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ’ فی الوقت جن علاقوں کا انہوں نے دورہ کیا ہے وہاں گزشتہ تین دنوں سے کسی مريض کے مرنے کی خبر نہیں ملی ہے‘۔

داکٹروں کی کمی کے دعوے سے انکار کرتے ہوئے ڈاکٹر اوشا نے کہا کہ ٹیم کم نہیں ہے لیکن سبھی ڈاکٹر کافی تھک گئے ہیں۔ اب ان کی جگہ نئے ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھیجی جا رہی ہے۔

اڑیسہ کا شمار ملک کی ان ریاستوں میں ہوتا ہے جو اقتصادی اعتبار سے کافی پسماندہ ہیں۔ ڈاکٹر اوشا کہتی ہیں کہ دراصل جن علاقوں میں وباء پھیلی ہے وہ قبائلی علاقے ہیں اور لوگ قدرتی وسائل سے حاصل ہونےوالے پانی اور خوراک پر زندگی گزارتے ہیں اور ہر برس بارش کے بعد اس قسم کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔

ان علاقوں میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ایکشن ایڈ کی رکن براتندی جینا کا کہنا ہے کہ حکومت کی لاپرواہی سے ہی ہر برس ان علاقوں میں اس قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان علاقوں میں نل اور ہیند پائپ لگوائے ضرور ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی کام نہیں کرتا ۔جس کی وجہ سے قبائلیوں کو قدرتی وسائل کا پانی پینا پڑتا ہے جو مختلف ترقیاتی پروجکٹس کے سبب آلودہ ہوچکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد