اڑیسہ میں باقیات سے سراسیمگي | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں بڑی تعداد میں ہڈیاں اور کھوپڑیاں ملی ہیں جن پر شک کیا جا رہا ہے کہ یہ نوزائیدہ بچوں یا جنین کی بھی ہو سکتی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ باقیات اتوار کو نیاگڈھ قصبے میں بیس تھیلوں میں ایک ہسپتال کے پاس موجود کوڑے کے ڈھیر سے ملے ہيں۔ پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ رحم مادر میں لڑکیوں کے جنین کو ضائع کرنے یا انسانی اعضاء کے سمگلنگ کا ہوسکتا ہے۔ حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ باقیات کو ریاست کی فورنسک لیبارٹری ميں بھیجا جا رہا ہے۔ شعبہ جرائم کے انسپکٹر جنرل بی کے شرما کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ باقیات انسانی ہیں یا نہیں اور ہڈیاں اور کھوپڑیوں کی تعداد کتنی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا یہ تعین ہونے میں ایک ہفتہ لگ سکتاہے۔ گزشتہ دنوں ڈوبری نامی پہاڑی علاقے میں کچھ بچوں کی لاشیں دفن ہونے کی خبر آئی تھی لیکن پولیس وہاں ایک بھی لاش برآمد نہ کر سکی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میڈیا میں خبر آنے کے بعد پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی ان لاشوں کو غائب کردیا گیا۔
ڈوبری کے واقعہ کے بعد ریاست کے وزیر اعلی نوین پٹنائک نے پولیس کومعاملے کی مفصل تفتیش کرنے کا حکم دیا تھا اور اتوار کو نیا گڈھ میں باقیات کی برآمدگی اسی جانچ کا حصہ ہے۔ ہندوستان میں رحم مادر میں جنس کی تشخص پر پابندی عائد ہے لیکن اس باوجود خاطر خواہ تبدیلی نہيں آئی ہے کیونکہ والدین لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ | اسی بارے میں انڈیا: بچیوں کے جنین کا اسقاط15 June, 2007 | انڈیا راجستھان: لڑکوں کے مقابلےمیں لڑکیاں کم23 May, 2007 | انڈیا اسقاطِ حمل: 28 ڈاکٹروں پر پابندی16 May, 2007 | انڈیا انڈیا: زندہ والدین کی یتیم بیٹیاں18 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||