BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 January, 2006, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیوی سے تنگ ،جنگل میں رہائش

کپیلا پرادھا نے بیوی سے ناچاقی کی وجہ سے جنگل میں ایک درخت کو اپنا گھر بنا لیا ہے۔
بھارتی ریاست آّڑیسہ میں ایک شخص نےگھریلو پریشانیوں سے تنگ آ کر پچھلے پندرہ سالوں سے جنگل میں درخت پر رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

ریاست اڑیسہ کے گاؤں ناگا جرہا کے پینتالیس سالہ کپیلا پرادھان نے پندرہ سال پہلے بیوی سے ناچاقی کی وجہ سے گھر چھوڑ کر قریبی جنگل میں ایک درخت پر رہائش اختیار کر رکھی ہے۔

کپیلا پرادھان اپنی ماں کی منت سماجت کے باوجود واپس گاؤں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ادھر کپیلا پرادھان کی بیوی نے اپنے دیور کے ساتھ تعلقات بڑھا لیے ہیں۔

کپیلا پرادھان کی ماں ششولہ نے بتایا کہ ان بیٹے اور بہو میں ہمیشہ جگھڑا رہتا تھا اور جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو جھگڑوں میں شدت آ گئی۔ ایک دن جب وہ جاگیں تو کپیلا پرداھان گھر سے جا چکا تھا۔

ششولہ بتاتی ہیں کہ ایک مہینے بعد گاؤں والوں نے انہیں بتایا کہ وہ جنگل میں ایک درخت پر رہائش پذیر ہے۔ ششولہ اپنے بیٹے کو واپس گھر لانے کے کے جنگل بھی گئیں لیکن وہ کسی صورت میں بھی گھر آپس آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

کپیلا پرادھان نے پچیس فٹ اونچے درخت پر اپنے گھر سے بی بی سی کو بتایا کہ پچھلے پندرہ سال سے اس نے شاذ و نادر ہی آگ پر پکا ہوا کھانا کھایا ہے اور جنگل سے جو کچھ مل جاتا ہے وہ اسی پر گزارہ کر لیتا ہے۔

قریبی گاؤں کے شخص نے بتایا کہ کبھی کبھار خوشی کے موقع پر گاؤں کےلوگ کپیلا کو کھانا دے دیتے ہیں۔

کپیلا پرادھان 1999 میں آنے والے طوفان میں خود مرتے مرتے بچا تھا۔ تین سو کلومیٹر کی رفتار سے آنے والے اس طوفان میں ہزراوں درخت گر گئے اور ایک درخت کپیلا سے چند انچ دور گرا تھا۔

کپیلا کو طوفان سے زیادہ جنگلی ہاتھیوں اور بندروں سے پریشانی ہے اور اسی وجہ سے اس نے اپنی رہائش بدل لی ہے اور ایک ایسے درخت کو اپنا گھر بنایا ہے جو رہائشی آبادی کے نسبتاً قریب ہے۔

کپیلا کا کہنا ہے کہ جب اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو بہت زیادہ خوش تھا۔ بیٹے کی پیدائش پر اس نے پورے گاؤں کی دعوت کی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں حالات خراب ہو گئے۔

کپیلا کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ کپیلا کی بیوی تلسی نے اپنے دیور بابوان سے ناجائز تعلقات استوار کر لیے جس سے مایوس ہو کر کپیلا نے گھر چھوڑ دیا۔

کپیلا کے گھر سے چلے جانے کے بعد ان کے بھائی بابوان نے تلسی کے ساتھ رہائش اختیار کر لی اور ان کے ہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا۔

بابوان اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ اس کے بھائی نے اس کی وجہ سے گھر چھوڑا ہے۔ بابوان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بھابی کو اپنی ’ساتھی‘ بنا لیا ہے لیکن شادی نہیں کی ہے۔

بابوان کہتا ہے کہ بھابی سے تعلقات استوار کرنے فیصلہ اس نے تب کیا جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کا بھائی کبھی واپس نہیں آئے گا۔

ان کی ماں ششولہ نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا ہے۔لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کپیلا واپس آ گیا تو تلسی کس کی بیوی تصور ہو گی تو ماں نے کہ کپیلا کی واپسی مشکل نظر آتی ہے لیکن اگر وہ آ بھی جائے تو اس کو اب اپنی بیوی پر حق نہیں جتانا چاہیے۔

اسی بارے میں
اپنی بیوی، اپنا گھر
16 September, 2003 | صفحۂ اول
قیدی: بیوی قبول، بچہ نہیں
20 September, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد