جھارکھنڈ: چھ ماؤ نواز باغی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمالی ریاست جھارکھنڈ اور اڑیسہ کی سرحد پر واقع سارنڈا کے گھنے جنگلوں میں ماؤ نواز باغیوں اور پولیس کے مابین ہوئے تصادم میں پولیس نے چھ باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جھارکھنڈ پولیس کے ترجمان راج کمار ملک نے بتایا کہ منگل کی دیر رات تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب سیم ڈیگا کے پولیس سپرٹینڈینٹ ڈی بی شرما علاقے کا گشت لگا ر ہے تھے۔ پولیس کے مطابق ماؤ نواز باغیوں نے پولیس سپرٹنڈینٹ کی گاڑی کو بارودی سرنگ سے اڑانے کی ناکام کوشش کی۔ پولیس اور ماؤنواز باغیوں کے مابین تقریبا تین گھنٹے تک گولی باری کا تبادلہ ہوا جس میں مورٹار گولے اور خودساختہ چلنے والی بندقوں کا استعمال کیا گيا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم میں متعدد باغی زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ مورٹار دھماکے سے ایک پولیس اہلکار شدید طور پر زخمی ہوگیا جسے نہیں بچایا جا سکا۔ پولیس ترجمان مسٹر ملک کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغی سیم ڈیگا کے جل ڈیگا پولیس اسٹیشن پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور باغیوں کی تعداد تقریبا ڈیڑھ سو تھی۔ جھارکھنڈ میں ماؤ نواز باغی بائیس میں سے اٹھارہ اضلاع میں سرگرم ہیں اور ہمشہ سرکاری اثاثے، پولیس، سیاسی رہنما سیمت عام عوام پر حملے کرتے رہتے ہیں لیکن حکومت باغیوں سے نمٹنے میں ناکامیاب رہی ہے۔ | اسی بارے میں رام پور میں حملہ: آٹھ ہلاک01 January, 2008 | انڈیا ماؤنواز سب سے بڑا چیلنج: منموہن 20 December, 2007 | انڈیا چودہ گھنٹوں میں دو ماؤنواز حملے13 December, 2007 | انڈیا نکسلی حملے میں بارہ افراد ہلاک29 November, 2007 | انڈیا نکسلی تشدد کےخلاف ہڑتال28 October, 2007 | انڈیا جھارکھنڈ میں پولیس ناکام کیوں؟05 March, 2007 | انڈیا ماؤنواز اور شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی18 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||