چودہ گھنٹوں میں دو ماؤنواز حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست چھتیس گڑھ میں دو مختلف حملوں میں پولیس کے تین اور سنٹرل رِزرو پولیس فورس ( سی آر پی ایف) کا ایک جوان ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ حملےگزشتہ چودہ گھنٹوں میں ہوئے ہیں۔ پولیس کے اعلی افسروں کا کہنا ہے کہ حملے ماؤنواز باغیوں کی جانب سے کيے گئے ہیں۔ بستر علاقے کے اعلی پولیس افسر آر کے وج نے بتایا کہ ’جمعرات کی صبح سی آر پی ایف کی ایک ٹکڑی بیجاپور ضلع میں واقع چیرا منگی پوسٹ سے گزرتے ہوئے مرکی نار جا رہی تھی جب ان پر بندوق سے حملہ ہوگیا۔‘ دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ماؤنواز باغیوں نے بستر ضلع کے وشرام پوری پولیس تھانے پر حملہ کر دیا۔ اس وقت وہاں صرف ایک ریوالور کے ساتھ محض چھ پولیس والے ہی موجود تھے۔ ماؤنواز باغیوں نے ایک انسپکٹر سمیت تین پولیس والوں کو گولیوں سے ہلاک کر دیا اور وائرلیس سے ہیڈکواٹر کو حملے کی خبر بھیجنے کی کوشش کرنےوالے آپریٹر کے پیر میں گولی مار دی۔ حملے کے بعد ماؤنواز تحریک سے متاثرہ علاقوں ميں پولیس کے پاس ہتھیاروں کی کمی پر سوالیہ نشان لگنے لگے ہيں۔ ریاستی پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل شریموہن شکلہ کے مطابق ایسے علاقوں میں واقع پولیس سٹیشنوں میں پولیس کی کم تعداد ہونا بالکل غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس والوں کو چاروں طرف پھیلانے کے برعکس صحیح تعداد میں اعلی ہتھیاروں کے ساتھ ایسے مقامات پر رکھنا مناسب ہوگا جو مضبوط حفاظت میں ہوں کیوں کہ بار بار حملوں اور اس میں مارے جانے سے جوانوں پر نفسیاتی اثر پڑتا ہے۔ ریاستی حکومت بار بار پولیس کی طاقت، ان کے حقائق اور بھرتی کے نظام سے متعلق آنے والی دقتوں کی بات کرتی رہتی ہے لیکن پولیس کی بہتری کے لیے ریاستی حکومت کو ہر برس مرکزي حکومت سے ایک بڑی رقم فراہم کی جاتی ہے۔ |
اسی بارے میں نکسلی حملے میں بارہ افراد ہلاک29 November, 2007 | انڈیا ماؤنواز اور شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی18 January, 2007 | انڈیا جھارکھنڈ: پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک01 June, 2006 | انڈیا ٹرینوں پرمنڈلاتا نکسلی خطرہ28 April, 2006 | انڈیا نکسلی تشدد اور بھارتی الیکشن19 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||