BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 December, 2007, 15:31 GMT 20:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماؤنواز سب سے بڑا چیلنج: منموہن
شوراج پاٹل
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب تک اس’ وائرس‘ کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک چین سے بیٹھا نہیں جا سکتا ہے
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ماؤ نواز تحریک کو ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے انہوں نے سبھی ریاستوں سے پولیس کے خصوصی نظام تشکیل دینے پر زور دیا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بات دلی میں جاری داخلی سلامتی کے اجلاس کے دوران کہی ہے۔ ملک کے سبھی ریاستوں کے وزراء اعلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے ماؤ نواز تحریک کو ایک ’وائرس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اس وائرس کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک سکون سے نہیں بیٹھا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق ماؤنوازوں کی جانب سے یہ دعوے بے بنیاد ہیں کہ ’ریڈ کوریڈور‘ نیپال سے آندھرا پردیش تک پھیل گیا ہے لیکن مسٹر سنگھ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماؤنواز باغی کچھ حد تک اثر بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔

حال ہی میں ریاست چھتیس گڑھ کی دنتے واڑہ کی ایک جیل سے ماؤنواز باغیوں کے بھاگنے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ کوئی پہلا واقہ نہیں ہے، ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب ماؤنوازوں کی جانب سے اس طرح کے واقعات پیش نہ ہوں۔‘

پولیس کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ’میں نے سنا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہاں صرف تین مسلح پولیس والے موجود تھے۔‘

وزیراعظم نے تمام وزراء اعلی کو یقین دہائی کرائی کے ماؤنوازوں سے خصوصی طور پر نمٹنے کے مقصد کے لیے خصوصی پولیس کے نظام کو بنانے میں مرکزی وزارت داخلہ پوری مدد فراہم کرے گی۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا: ’جہاں تک ماؤنواز تحریک کی بات ہے تو یہ ایک حد تک کچھ مقامات تک ہی محدود ہے لیکن دہشتگرد حملوں سے ہر کوئی متاثر ہوتا ہے۔ یوں تو دہشتگرد حملے کچھ علاقوں میں ہی ہوئے ہیں لیکن دہشتگردوں کی پہنچ اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی ان سے بنا متاثر ہوئے نہیں رہ سکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’خفیہ اداروں نے مزید دہشتگرد حملوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر دہشتگرد کسی جانی پہچانی تنظیم کا حصہ ہوتے ہیں لیکن یہاں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ ان کے لیے مقامی سطح پر ہمدردی اور مدد پیدا نہ ہو۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد