 | | | ان مراکز میں چودہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے افراد زیر تربیت ہیں: نرائنن |
بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایم کے نرائنن نے امریکہ اور عرب خلیجی ریاستوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے معاشی اثاثوں پر دہشت گردوں کی طرف سے حملوں کی نئی لہر کے لیے تیار رہیں۔ ایم کے نرائنن بحرین کے شہر مانامہ میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالی کانفرنس برائے علاقائی سلامتی سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کے خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق القاعدہ نے پاکستان اور افغانستان سرحد کے قریب نئے تربیتی مراکز قائم کر لیے ہیں۔ ’ان مراکز میں چودہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے افراد زیر تربیت ہیں۔‘  | غیر روایتی جنگ  ان مراکز میں غیر روایتی جنگ کی بھرپور تربیت دی جا رہی ہے اور عرب خلیجی ریاستیں اس کا خاص ہدف ہو سکتی ہیں  ایم کے نرائنن |
بھارت کے سکیورٹی ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ ان مراکز میں غیر روایتی جنگ کی بھرپور تربیت دی جا رہی ہے اور عرب خلیجی ریاستیں اس کا خاص ہدف ہو سکتی ہیں۔ کانفرنس میں موجود سکیورٹی امور کے بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق ایم کے نرائنن کا کہنا تھا کہ ان مراکز سے تربیت پانے والے نامی گرامی سیاستدانوں اور معاشی اثاثوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عرب ریاستوں میں تیل کی پائپ لائنوں اور ذخیروں کے علاوہ بجلی کے کھمبوں اور سمندر کے راستے سفر کرنے والے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ بھارت کے سکیورٹی ایڈوائزر کے مطابق علاقے کو القاعدہ سے متاثر دہشت گردی کی ایک نئی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  | | | امریکی وزیر دفاع نے بھی کانفرنس برائے علاقائی سلامتی سے خطاب کیا |
کانفرنس میں امریکہ، بھارت، ایران، عراق کے علاوہ کئی عرب ریاستوں کے مندوبین شریک ہیں۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ رابرٹ گیٹس نے الزام لگایا کہ ایران کی خارجہ پالیسی امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے دوسرے ملکوں کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ تاہم انہیں میزبان ملک بحرین کے مندوب سمیت کئی دوسرے عرب ممالک کے مندوبین کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ عرب ممالک کے مندوبین نے اسرائیل اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ پر دوہرے میعار کا الزام لگایا۔ |