BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 December, 2007, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
داخلی سلامتی پر اہم اجلاس
شوراج پاٹل
وزیر داخلہ شوراج پاٹل کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کوئی سخت قانون کی ضرورت نہیں
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں جمعرات کو ملک کی داخلی سلامتی کے معاملے پر مرکزی حکومت اور سبھی ریاستوں کے وزراء اعلٰی کی میٹنگ ہو رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں مختلف ریاستوں ميں ہونے والے بم دھماکوں سے متعلق حفاظتی انتظامات کے بارے میں ٹھوس اقدامات کرنے پر غور کیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ہندوستان کے داخلہ سیکریٹری مدھوکر گپتا کا کہنا ہے ’اس اجلاس میں کوشش کی جائے گی دہشتگردی سے متعلق جرائم سے نمٹنے کے لیے ایک مرکزی تفتیشی ایجنسی تشکیل دیے جانے پر اتفاق کیا جائے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی ایجنسی دہشتگردی سے متعلق ان جرائم کی تقتیش کريں گی جن کا تعلق بین الاقوامی اور مختلف ریاستوں کی سکیورٹی سے ہے۔ لیکن اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بعض ریاستیں اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔

23 نومبر کو ریاست اتر پردیش کے تین شہروں میں بم دھماکوں کے بعد ملک کی پارلیمنٹ میں بحث کے دوران یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ دہشتگردی سے متعلق واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک مرکزی تفتیشی ایجنسی تشکیل دی جائے۔

فی الوقت قانون کا نظام ریاستی حکومتوں کے ہاتھ میں ہے۔

دو برس میں میں راجستھان، مہاراشٹر، اتر پردیش، پنجاب اور آندھرا پردیش میں بم دھماکے ہوئے ہیں

اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم منموہن سنگھ کر رہے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو برس ميں ہونے والے بم دھماکوں میں ملک میں تقریباً 434 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق توقعات ہیں کہ مرکز ریاستی حکومتوں سے موجودہ پولیس کے نظام کو مظبوط بنانے، خالی عہدوں کو بھرنے، خفیہ ایجنسیوں کے کام کاج کو مزید بہتر بنانے اور پولیس کے جوانوں کی تربیت جدید طریقے پر کرنے کرنے کو کہے گا۔

اس برس اگست میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے کہا تھا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کسی سخت قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت انہوں نے مرکزی اور ریاستی حکومت سے حفاظتی دستوں کی تعداد میں اضافے اور انہیں اضافی مالی امدداد دینے پر زور دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد