اڑیسہ تشدد میں نکسلی بھی شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں یوم کرسمس کی مخالفت میں ہونے والے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے چھاپے مارکر 20 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران اس نے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ اڑیسہ کے انسپکٹر جنرل پردیپ کپور نے صحافیوں کو بتایا کہ برہمنی گاؤں میں چھاپے مارے گئے اور ان چھاپوں کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ تشدد کی کاروائی میں نکسلی باغی بھی شامل تھے۔ اڑیسہ میں 25 دسمبر کو سخت گير ہندو تنظیموں کے بند کے دوران کئی گرجا گھروں پر حملے ہوئے تھے اور تشدد کی پوری کاروائی میں تین شخص ہلاک ہوگیا تھا۔ جبکہ کم سے دو درجن افراد زخمی ہوئے تھے۔ ریاست کے کاندھامل ضلع میں چھ گرجاگھروں کو نشانہ بنایا گيا تھا جبکہ دیگر کئی علاقوں میں چرچز میں توڑ پھوڑ کے واقعات کی اطلاعات تھیں۔ بعض پولیس کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ہندو نظریاتی تنظیم وی ایچ پی کے ایک معروف رہنما لکشمن آنند سرسوتی اڑیسہ میں مبینہ طور پر مذہب کی تبدیلی کے سخت مخالف ہیں اور وہ اڑیسہ میں اس کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق بند کے دوران عیسائیوں اور اور بعض وی ایچ پی کارکنوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی جھڑپیں شروع ہوئی تھیں لیکن بعض لو گوں نے لکشمن آنند سرسوتی پر حملہ کر دیا جس پر ایچ پی کے کارکن بھڑک اٹھے اور ہنگامہ شروع ہوگیا تھا۔ ریاست اڑیسہ میں سخت گیر ہندو کارکن عیسائی مشنریز کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ چند برس قبل ایک آسٹریلوی مِشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو بیٹوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں اڑیسہ میں چرچوں پر حملے، کرفیو26 December, 2007 | انڈیا اڑیسہ: تشدد اور چرچ پرحملے جاری27 December, 2007 | انڈیا دارا سِنگھ کو سزائے موت22 September, 2003 | آس پاس ’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘24 September, 2005 | انڈیا گرجا گھروں کے لیے ڈریس کوڈ14 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||